اسلام کا اقتصادی نظام — Page 71
اس کے ورثاء میں تقسیم کر دیتی ہے۔اگر کسی شخص کے پاس ایک کروڑ رو پیہ ہے اور اس کے دس بیٹے ہیں تو اس کے مرنے کے بعد ہر ایک کو دس دس لاکھ روپیل جائے گا اور اگر پھر ان میں سے ہر ایک کے دس دس لڑکے ہوں تو وہ دس لاکھ ایک ایک لاکھ میں تقسیم ہو جائے گا اور تیسری نسل میں وہ دس دس ہزار روپیہ تک آجائے گا۔گویا زیادہ سے زیادہ تین چار نسلوں میں بڑے سے بڑے تاجر کا بھی تمام روپیہ ختم ہو جائے گا اور ایک بلاک غرباء کے راستہ میں کبھی کھڑا نہیں ہوگا۔تقسیم ورثہ صرف وقف کی صورت میں روکی جاسکتی ہے مگر جس نے روپیہ کما کر غرباء اور رفاہ عام کیلئے جائداد وقف کر دینی ہو وہ ناجائز طور پر روپیہ کمائے گاہی کیوں۔ان احکام پر اگر عمل کیا جائے تو لازماً جو روپیہ بھی زائد آئے گا یا وہ حکومت کے پاس چلا جائے گا یا وہ لوگوں کے پاس چلا جائے گا اور یا پھر اولا د میں بٹ جائے گا بہر حال کوئی شخص بڑا امیر نہیں رہے گا۔اگر کوئی خود امیر ہو تو کوئی خاندان ایسا نہیں رہے گا جو مستقل طور پر اپنی خاندانی وجاہت یا اپنے خاندانی رُعب کی وجہ سے ملک کے غرباء کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ سکے۔افسوس ہے کہ مسلمانوں نے ان احکام پر پوری طرح عمل نہیں کیا۔زکوۃ کا حکم موجود ہے مگر وہ زکوۃ نہیں دیتے ، اسراف کے تمام طریقوں کو نا جائز قرار دیا گیا ہے مگر وہ اسراف سے باز نہیں آتے ، ورثہ کا حکم دیا گیا ہے مگر وہ ورثہ کے احکام پر عمل نہیں کرتے لیکن پھر بھی چونکہ کچھ نہ کچھ عمل ہوتا ہے اس لئے اسلامی ممالک میں امیروں اور غریبوں کا وہ فرق نہیں ہے جو دوسرے ممالک میں پایا جاتا ہے مگر ان تدابیر سے بھی پورا علاج نہیں ہوتا۔ہوسکتا تھا کہ جو روپیہ حکومت کے پاس آئے وہ پھر امراء ہی کی طرف منتقل ہو جائے اور وہ دوبارہ اُسے اپنی طرف کھینچ لیں۔قرآن کریم نے اس کا بھی علاج بتایا ہے چنانچہ اس 71