اسلام کا اقتصادی نظام — Page 69
اسلام کا اقتصادی نظر ورثہ کی تقسیم اگر ان تمام طریقوں سے کام لینے کے باوجود پھر بھی کسی انسان کے پاس کچھ مال بیچ جائے اور وہ اپنی جائداد بنالے تو اُس کے مرنے کے معابعد شریعت اس کی تمام جائداد کو اُس کے خاندان میں تقسیم کرا دے گی۔چنانچہ ورثہ کا حکم شریعت میں اسی غرض کے ماتحت رکھا گیا ہے کہ کوئی شخص اپنی جائداد کسی ایک شخص کو نہ دے جائے بلکہ وہ اُس کے ورثاء میں تقسیم ہو جائے۔شریعت نے اس تقسیم میں اولاد کا بھی حق رکھا ہے، ماں باپ کا بھی حق رکھا ہے، بیوی کا بھی حق رکھا ہے، خاوند کا بھی حق رکھا ہے اور بعض حالتوں میں بھائیوں اور بہنوں کا بھی حق رکھا ہے۔قرآن کریم نے صاف طور پر حکم دیا ہے کہ کسی شخص کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اس تقسیم کو بدل سکے۔یا کسی ایک رشتہ دار کو اپنی تمام جائدا دسپر د کر جائے۔اُس کی جس قدر جائداد ہوگی شریعت جبراً اس کے تمام رشتہ داروں میں تقسیم کرا دے گی اور ہر ایک کو وہ حصہ دے گی جو قرآن کریم میں اُس کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔تعجب ہے کہ جہاں دنیا سود کی تائید میں ہے حالانکہ وہ دنیا کی بے جوڑ مالی تقسیم کا بڑا موجب ہے وہاں اکثر لوگ جبری ورثہ کے بھی مخالف ہیں اور اس امر کی اجازت دیتے ہیں کہ ایک ہی لڑکے کو مرنے والا اپنا مال دے جائے حالانکہ اس سسٹم سے دولت ایک خاندان میں غیر محدود وقت تک جمع ہوتی جاتی ہے لیکن اسلامی اصول وراثت کے مطابق جائداد خواہ کتنی بڑی ہو تھوڑے ہی عرصہ میں اولا د در اولاد میں تقسیم ہو کر مالدار سے مالدار خاندان عام لوگوں کی سطح پر آ جاتا ہے اور اس حکم کے نتیجہ میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہوسکتا جس کی بڑی سے بڑی جائداد یا بڑی سے بڑی دولت تین چار نسلوں سے آگے بڑھ سکے۔وہ بمشکل تین چار نسلوں تک پہنچے گی اور پھر سب کی سب ختم ہو جائے گی اور آئندہ نسل کو اس بات کی ضرورت محسوس 69