اسلام کا اقتصادی نظام — Page 46
بادل کے برسنے سے میری کھیتی ہری بھری ہو جائے گی۔ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَر الگر جب وہ بادل برستا ہے تو ایسے رنگ میں برستا ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ کھیتی ہری بھری ہو، بجائے اس کے کہ غلہ زیادہ پیدا ہو، بجائے اس کے کہ زمیندار کونفع ہو وہ کھیتی سوکھ جاتی ہے اُس کا دانہ سڑ جاتا ہے اور آخر رڈی ہو کر وہ کوڑا کرکٹ بن جاتی ہے۔مثلاً زیادہ بارش ہو جاتی ہے اور کھیتی بر باد ہو جاتی ہے یا ضرورت سے کم بارش برستی ہے اور اس صورت میں بھی کھیتی کو نقصان پہنچتا ہے۔وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَان اور علاوہ اس کے کہ اِن امور کا نتیجہ اس دنیا میں خراب نکلتا ہے مرنے کے بعد بھی ایسے لوگوں کو عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے لیکن جو لوگ ان محرکات کو دباتے ہیں اور ان کا شکار نہیں ہوتے اُن کو اللہ تعالیٰ اپنی بخشش سے ڈھانپ لیتا ہے اور اپنی رضاء اور خوشنودی سے مسرور کرتا ہے۔پھر فرماتا ہے۔وَمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ اور اس دنیا کی زندگی تو بالکل دھوکے کی زندگی ہے۔جب ہمارے پاس مغفرت اور رضوان بھی ہے اور ہمارے پاس عذاب بھی ہے تو اے انسان! تو دنیا کی لغوخواہشات کی وجہ سے ہماری مغفرت اور ہماری رضوان کو کیوں نظر انداز کر رہا ہے اور کیوں اعلیٰ درجہ کی چیزوں کو چھوڑ کر ذلیل اور ادنی چیزوں کی طرف دوڑ رہا ہے۔اس آیت میں قرآن کریم نے اُن محرکات و موجبات کو ذلیل اور حقیر اور مضر بتایا ہے جو دنیا کمانے کی طرف انسان کو متوجہ کرتے ہیں اور فرماتا ہے کہ یہ سب امور جو نا جائز دنیا کمانے کا موجب ہوتے ہیں نتیجہ کے لحاظ سے ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے کہ عمدہ کھیتی سوکھ کر راکھ ہو جائے۔یعنی جس طرح وہ کام نہیں آتی اسی طرح ایسی دولت بھی انسان کو کوئی حقیقی نفع نہیں بخشتی اس لئے تم ان اغراض کے ماتحت دولت مت کماؤ کہ یہ خدا تعالیٰ کا غضب بھڑ کانے کا موجب ہیں۔جب 46