اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 47

سلام کا اقتصادی نظام اُس کے پاس فضل بھی ہے تو تم کیوں فضل کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور کیوں ان حقیر اور ذلیل خواہشات کے پیچھے چلتے ہو۔اب ظاہر ہے کہ جو شخص اسلام پر عمل کرے وہ کبھی اوپر کے محرکات سے متاثر ہوکر دولت نہیں کما سکتا اور اگر اس حکم پر عمل کرتے ہوئے وہ کچھ کمائے گا بھی تو وہ نیک کاموں میں خرچ ہو جائے گا۔اور اس طرح غربت و امارت کی خلیج وسیع نہ ہوگی بلکہ پائی جائے گی کیونکہ ان اغراض کے روک دینے کے بعد کوئی ایسا محرک باقی نہیں رہتا جس کی وجہ سے کوئی شخص اپنے نفس کیلئے اموال کما سکے کیونکہ مال کمانے کی تین ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔(1) (r) اپنی ضرورت کے مطابق۔اپنی ضرورت سے زیادہ لیکن اس لئے کہ اُس سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچا سکے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر سکے۔(۳) مال اوپر کے برے محرکات کی وجہ سے کمائے۔یعنی کھیل تماشے کیلئے ، عیاشی کیلئے فخر اور عزت کے لئے حرص مال کی وجہ سے۔ظاہر ہے کہ آخر الذکر صورتوں میں ہی انسان ناجائز طور پر مال کمائے گا اور دوسرے انسانوں کے لئے نقصان کا موجب ہوگا۔اوّل الذکر دونوں صورتوں میں یہ بات پیدا نہ ہوگی۔جو شخص ضرورت کے مطابق کمائے گا وہ بھی دوسروں کے لئے نقصان کا موجب نہ ہوگا اور جو ضرورت سے زائد کمالے گا لیکن اُس مال کے کمانے کا محرک صرف خیر و نیکی میں مسابقت کی روح ہوگی اُس کا مال بھی دوسرے انسانوں کے فائدہ کے لئے خرچ ہوگا اور اس سے افراد ملک یا قوم کوکوئی نقصان نہ پہنچے گا۔47