اسلام کا اقتصادی نظام — Page 142
میں سے ہے۔یہی وجہ ہے کہ کمیونزم امریکہ میں انگلستان سے بھی زیادہ نا کام رہا ہے کیونکہ وہاں دولت بہت زیادہ ہے اور دولت کی کثرت کی وجہ سے مزدوروں میں یہ احساس ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ غریب ہیں یا انہیں اپنے لئے کسی ایسے نظام کی ضرورت ہے جو اُن کی اِس تکلیف کو دور کر سکے جس کا روٹی یا کپڑے کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔پس اصل علاج یہی ہے کہ (۱) اسلامی تعلیم کے ماتحت غرباء کو اُن کا حق دیا جائے اور (۲) اُمیدوں اور امنگوں کو بڑھادیا جائے جیسے جرمنی اور اٹلی نے اپنے ملک کے لوگوں کو روپیہ نہیں دیا لیکن اُس نے اُن کی اُمنگوں کو بڑھا دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے آپ کو غالب اور فاتح اقوام میں سے سمجھنے لگے۔ترقی کے لئے اُمنگ کا پیدا ہونا نہایت ضروری ہوا کرتا ہے۔جس قوم کے دلوں میں سے اُمنگیں مٹ جائیں، اُس کی اُمید میں مر جائیں، اُس کے جذبات سرد ہو جائیں اور غرباء کے حقوق کو بھی وہ نظر انداز کر دے اُس قوم کی تباہی یقینی ہوتی ہے۔غرباء کی ضروریات کے متعلق امیروں کا فرض پس ہمارے ملک کے اُمراء کو چاہئے کہ وہ وقت پر اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اُن حقوق کو ادا کریں جو اُن پر غرباء کے متعلق عائد ہوتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ کمیونزم کا پیدا ہونا ایک سزا ہے اُن لمبے مظالم کی جو اُمراء کی طرف سے غرباء پر ہوتے چلے آئے تھے لیکن اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرلیں اور تو بہ سے اپنے گزشتہ گناہوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔اگر وہ اپنی مرضی سے غرباء کو اُن کے حقوق ادا نہیں کریں گے تو خدا اس سزا کے ذریعہ اُن کے اموال اُن سے لے لیگا۔لیکن اگر وہ تو بہ کریں گے اور اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہو جائیں گے تو یہ مہیب آفت جو اُن کے سروں پر منڈلا رہی ہے اسی طرح چکر کھا کر گزر جائے گی جس طرح آندھی ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ کی طرف اپنا رُخ موڑ (142)