اسلام کا اقتصادی نظام — Page 143
لیتی ہے۔اب یہ تمہارا اختیار ہے کہ چاہو تو اللہ تعالیٰ کے اُس محبت کے ہاتھ کو جو تمہاری طرف بڑھایا گیا ہے ادب کے ساتھ تھا مو اور اپنے اموال کو غرباء کی بہبودی کے لئے خرچ کرو اور اگر چاہو تو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو برداشت کر لو اور دولت اپنے پاس رکھو جو کچھ دنوں بعد تم سے باغیوں اور فسادیوں کے ہاتھ چھنوا دی جائے گی۔آخر میں میں اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ کمیونزم کی ترقی اور روسی اقتصادیات پر غور کرتے وقت ہمیں ایک اور اہم بات بھی مدنظر رکھنی چاہئے جو ایسے حالات میں کہی گئی ہے جبکہ روس کو دنیا میں کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔روس کے متعلق اڑہائی ہزار سال پہلے کی ایک پیشگوئی روس کیا ہے؟ ایک ایسا ملک ہے جس نے صرف تین چار سو سال سے اہمیت حاصل کی ہے اس سے پہلے وہ ایک پراگندہ قوم تھی۔صرف چند قبائل تھے جو تھوڑے تھوڑے علاقہ پر قابض تھے مگر اپنے علاقہ میں بھی اُس کو کوئی خاص طاقت حاصل نہیں تھی۔آج سے ایک ہزار سال پہلے وہ بہت ہی غیر معروف تھا اور اس قدر بے آباد اور ویران تھا کہ کوئی شخص اُس کی بے آبادی کی وجہ سے اس کی طرف منہ بھی نہیں کرتا تھا۔اور آج سے اڑھائی ہزار سال پہلے تو اس سے کوئی شخص واقف بھی نہیں تھا۔شاذ و نادر کے طور پر جغرافیہ والوں کو اس کا علم ہو تو ہو ورنہ یہ اس قدر ویران تھا کہ کوئی شخص اس کی طرف منہ کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتا تھا۔اُس زمانہ میں جب کہ روس کو کوئی اہمیت حاصل نہیں تھی حز قیل نبی نے آج سے اڑھائی ہزار سال پہلے روس کے متعلق ایک عظیم الشان پیشگوئی کی تھی جو آج تک بائبل میں موجود ہے اور حز قیل باب ۳۸ اور ۳۹ میں اس کا تفصیل کے ساتھ ذکر آتا ہے چنانچہ لکھا ہے۔(143)