اسلام کا اقتصادی نظام — Page 141
سب کے مقدمات نہیں لڑ سکتا۔اگر سب مقدمات نہیں لیتا تو وہ اُن کا انتخاب کس طرح کرتا ہے؟ ایسے ہی بیسیوں سوالات ہیں جن پر غور کر کے مساوات کا حقیقی علم حاصل ہوسکتا ہے۔ان سوالات کے بغیر حقیقی مساوات کا علم ناممکن ہے۔مگر ان کے معلوم کرنے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے اور جب تک اِن باتوں کا جواب مہیا نہ کیا جائے کمیونزم کے حامی مساوات کا دعویٰ کرنے میں غلطی پر ہیں۔صحیح اقتصادی نظام ان تمام باتوں پر غور کرنے کے بعد میں سمجھتا ہوں ہر عقلمند انسان اس نتیجہ پر ہی پہنچے گا که اصل اقتصادی نظام وہی ہے جو مذہب کے لئے گنجائش رکھے کیونکہ تھوڑے عرصہ پر اثر انداز ہونے والی اقتصادیات پر ایک لمبے عرصہ پراثر انداز ہونے والی اقتصادیات کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔اور اقتصادیات وہی اچھی ہیں جن میں ہر فرد کی ضروریات کو پورا کرنے کا سامان ہو مگر اس کے ساتھ ہی ایک حد تک فردی ترقی کا راستہ بھی کھلا ہوتا کہ نیک رقابت پیدا ہواور بری رقابت کچلی جائے۔اصل بات یہ ہے کہ کمیونزم ایک رد عمل ہے لمبے ظلم کا۔اسی وجہ سے یہ ظلم کے علاقوں میں کامیاب ہے لیکن امریکہ اور انگلستان وغیرہ میں کامیاب نہیں۔اسی طرح نیشنلسٹ اور سوشلسٹ علاقوں میں بھی کامیاب نہیں۔کچھ عرصہ ہوا امریکہ کے ایک اخبار نے مزدوروں سے یہ سوال کیا کہ تم اپنے آپ کو کیپٹلسٹ سمجھتے ہو یا مڈل کلاس MIDDLE) (CLASS میں سے سمجھتے ہو یا غریب کلاس میں سے سمجھتے ہو؟ اس سوال کے جواب میں اکثر جوابات میں یہ کہا گیا تھا کہ ہم اپنے آپ کو مڈل کلاس (MIDDLE CLASS) میں سے سمجھتے ہیں۔جس کے معنی یہ ہیں کہ امریکہ کے مزدور کو یہ خیال بھی نہیں آتا کہ وہ غرباء (141)