اسلام کا اقتصادی نظام — Page 102
تھے اور یہ علاقہ دو دریاؤں کے درمیان ہے اس لئے وہاں بہت سی اُفتادہ زمین مسلمانوں کو ملی مگر باوجود اس کے کہ لشکر اسلام کے بعض جرنیلوں نے اس وقت کے عام دستور کے مطابق اس زمین کو جو افتادہ اور سرکاری تھی فاتحین میں بانٹنے کی کوشش کی۔حضرت عمر نے اس بناء پر تقسیم کرنے سے انکار کیا کہ اس سے آئندہ نسلوں اور عامۃ الناس مسلمانوں کو نقصان ہوگا اور اُسے گورنمنٹ کی ملکیت ہی رہنے دیا گیا۔اسی طرح مصر میں بھی زمین وہاں کے سابق باشندوں کے پاس رہنے دی گئی۔غرض اسلامی نظام کی جو تعبیر ابتدائے اسلام میں کی گئی اس میں یہ امر تسلیم کر لیا گیا کہ اُفتادہ زمین کو بجائے امراء میں بانٹ دینے اور بڑے بڑے زمینداروں کی جماعت تیار کرنے کے جیسا کہ یورپین نظام کے ماتحت ہوا ہے حکومت کے قبضہ میں رکھنا چاہئے تا کہ آئندہ نسل اور آبادی کی ترقی پر سب ملک کی ضرورت کا انتظام ہو سکے جس کی وجہ سے اسلامی نظام کے ماتحت بڑی زمینداریوں کا قیام عمل میں نہیں آیا۔گو بعد میں اسلام کی تعلیم پر پورا عمل نہیں ہوا پھر بھی اسلامی تعلیم کے اثر سے مسلمان بادشاہ پوری طرح آزاد نہیں ہوئے اور ہندوستان میں جب اسلامی حکومت آئی تو یہاں بھی یہی فیصلہ کیا گیا کہ مقبوضہ زمینیں پرانے باشندوں کے قبضہ میں رہنی چاہئیں اور افتاده زمین حکومت کے قبضہ میں۔اور ہندوستان کی بڑی زمینداریاں سب کی سب انگریزی زمانہ کی پیداوار ہیں۔جب انگریز آئے تو انہوں نے اپنے انتظام کی سہولت کے لئے پرانے تحصیلداروں یار یو نیو افسروں کو اُن کے علاقوں کا مالک قرار دے کر بنگال اور یو۔پی میں بڑے زمینداروں کی جماعت قائم کر دی حالانکہ یہ لوگ اصل میں صرف تحصیلدار تھے۔اس نئے انتظام کے ماتحت غریب زمینداروں کو ان کے حق سے محروم کر دیا گیا۔(102)