اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 101

جاتی ہے۔اسی نظام کی وجہ سے نارمنڈی -B۳۱ کے بادشاہوں نے انگلستان، سکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کے بعض علاقوں کی زمینیں چند امراء میں تقسیم کر دیں اور باقی سب لوگ بغیر زمین کے رہ گئے حتی کہ لوگوں کو مکان بنانے کیلئے بھی زمین نہ ملتی تھی۔بلکہ پرانے قانون کے ماتحت لوگ مکانوں تک کے لئے امراء سے زمین نہ خرید سکتے تھے اور آخر لمبے مقاطعہ کی صورت میں زمینوں کی خرید وفروخت کا طریق جاری ہوالیکن پھر بھی بہت سے قصبات کی عمارتیں بڑے زمینداروں کے قبضہ میں ہیں جو لوگوں کو کرایہ پر دے کر اپنا تصرف لوگوں پر قائم رکھتے ہیں۔فرانس میں بھی اور جرمنی اور آسٹریا میں بھی ایک حد تک ایسا ہی ہوا۔اٹلی میں بھی ایک لمبے عرصہ تک یہی حال رہا اور نپولین کی جنگوں کے بعد کسی قدر اصلاح ہوئی۔یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ کی ترقی میں بھی بڑے زمینداروں کی ایک جماعت اسی طرح پیدا ہوگئی کہ پرانے باشندوں کی زمین کے جتنے وسیع رقبہ پر کوئی قبضہ کر سکا اس نے قبضہ کر لیا۔آسٹریا میں بھی ایسا ہوا اور کینیا کالونی میں بھی اسی طرح ہوا کہ بعض انگریزوں نے لاکھ لاکھ ایکڑ پر قبضہ کر لیا اور پرانے باشندوں کو محروم کر دیا۔مفتوحہ علاقہ کی زمین پر قبضہ کرنے کے متعلق اسلام کا بہترین نمونہ اس کے مقابل پر اسلامی فتوحات میں عرب میں تو فاتحین کو افتادہ زمینوں میں سے کچھ حصہ دیا گیا کیونکہ عرب میں تو زمین ہی کم ہے اس سے وہ ناجائز طور پر بڑے زمیندار نہیں ہو سکتے تھے لیکن یمن اور شام میں جو پرانے زمیندار تھے اُن ہی کے پاس زمین رہنے دی گئی۔عراق کا علاقہ چونکہ غیر آباد تھا اور ایرانی اسلام کی فتح پر اس علاقہ کو چھوڑ گئے (101)