اسلام کا اقتصادی نظام — Page 103
سلام کا اقتصادی نظام غرض اسلامی نظام زمیندارہ کے متعلق بھی ویسا ہی مکمل ہے جیسا کہ دوسرے اقتصادی امور میں۔اس میں بڑے زمینداروں کی جگہ نہیں یعنی حکومت ملکی زمینوں سے بڑے زمیندار نہیں بنا سکتی۔ہاں کوئی شخص زمین خرید کر اپنی زمین کچھ بڑھالے تو یہ اور بات ہے۔اور یہ ظاہر ہے کہ زمین خرید کر بڑھانا معمولی کام نہیں کیونکہ جس روپیہ سے زمین خریدی جائے گی وہ اگر تاجر کا ہے تو وہ تجارت کے زیادہ فائدہ کو زمین کی خاطر نہیں چھوڑے گا اور اگر روپیہ زمیندار کا ہے تو بہر حال محدود ہوگا۔زمیندار کی کمائی سے حاصل کردہ روپیہ سے خریدی ہوئی زمین کبھی بھی کسی زمیندار کو اتنا نہیں بڑھنے دے گی کہ وہ ملک کی اقتصادی حالت کو خراب کر سکے۔پھر تقسیم وراثت کے ذریعہ سے اُس کی زمین کو بھی ایک دونسلوں میں کم کر دیا جائے گا۔اسلام کی کمیونزم کے مقابل پر بڑی زمینداریوں کو مٹانے کی بہترین سیکیم یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ اسلامی قانون کے مطابق کسی شخص کو خواہ وہ بے اولا دہی کیوں نہ ہو ۱/۳ سے زائد کی وصیت کرنی جائز نہیں۔پس اگر کوئی شخص صاحب اولا د ہو گا تو اُس کی زمین تقسیم ہو کر کم ہوتی جائے گی اور اگر وہ اپنے خاندان کی وجاہت کے قیام کے لئے ۱/۳ اپنی اولاد میں سے کسی کو دینا چاہے گا تو اس کی اسلام اُسے اجازت نہ دے گا کیونکہ وصیت وارثوں کے حق میں اسلام جائز نہیں قرار دیتا غیر وارثوں کے حق میں جائز قرار دیتا ہے۔اور اس طرح زمین کی تقسیم سے روک کر بڑی رمینداریوں کے قیام کو ناممکن بنا دیتا ہے۔اور اگر کوئی لاوارث ہو تو اسلام اُسے بھی ۱/۳ حصہ کی وصیت کی اجازت دیتا ہے باقی (103)