اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 90

اور قوم پر بوجھ ہے۔اسی طرح حدیث کا علم بھی علاوہ درجنوں حدیث کی کتب کے ، درجنوں اُن کی تشریحات کی کتب کے اور اس کے ساتھ لغت اور صرف ونحو اور اسماء الرجال کی کتب پر مشتمل ہے بغیر حدیث کے علم کے مسلمانوں کو اسلام کی تفصیلات کا علم ہی نہیں ہو سکتا۔اور بغیر اس علم کے ماہرین کے جو اپنی عمر اس علم کے حصول میں خرچ کریں مسلمانوں میں اس علم کی واقفیت پیدا ہی نہیں ہو سکتی مگر کمیونزم تو اس علم کے پڑھنے کو بھی لغو اور فضول اور بے کار قرار دیتی ہے۔وہ اس علم کے پڑھنے اور پڑھانے والوں کو اپنی عمر اس علم کے حصول میں قطعاً خرچ نہ کرنے دے گی۔یا ایسے آدمی کو قید کرے گی یا اُسے فاقوں سے مارے گی کیونکہ وہ اُس کے نزدیک بریکار وجود ہے اور قوم پر بار۔مگر مسلمان بغیر اس علم کے ماہرین کے اپنے دین سے نہ واقف ہو سکتے ہیں نہ اس پر کار بند ہو سکتے ہیں۔اسی طرح علم فقہ، علم قضاء، علم تاریخ اسلام، علم تصوف، علم معاش اسلامی علم اقتصاد اسلامی ایسے علوم ہیں کہ اُن کے جاننے والوں کے بغیر اسلامی جماعت کو جہاں تک اسلام کا تعلق ہے زندہ نہیں رکھا جا سکتا۔مگر کمیونزم نہ اِن علوم کے پڑھانے والوں کو اپنے ملک میں رہنے دے سکتی ہے اور نہ پڑھنے والوں کو۔کیونکہ وہ ان لوگوں کو بے کار قرار دے کر ان کے لئے گزارہ کی صورت پیدا نہیں کرتی اور عوام کے پاس سوویٹ اقتصادیات کے ماتحت اس قدر روپیہ نہیں ہوسکتا کہ وہ ان لوگوں کے گزارہ کی خود صورت پیدا کریں جیسا کہ ہندوستان ، چین، عرب وغیرہ ممالک میں مسلمان اسلامی علماء اور طلباء کے گزارہ کی صورت پیدا کر رہے ہیں۔حق یہ ہے کہ اسلام اور دیگر مذاہب اور کمیونزم کے کام کی تشریح میں سخت اختلاف ہے۔اسلام اور کمیونزم کے کام کی تشریح میں اختلاف ہمارے نزدیک جو شخص مشین چلا رہا ہے وہ بھی کام کر رہا ہے اور جو شخص مذہب 90