اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 89

اسلام کا اقتصادی نظا بھی تعلیم دیتا ہے، وہ میاں اور بیوی کے حقوق کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے، وہ تجارت اور لین دین کے معاملات کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے، وہ ورثہ کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے، وہ بین الاقوامی جھگڑوں کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے، وہ قضاء کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے غرض ، ہزاروں قسم کی تعلیمیں اور ہزاروں قسم کے قانون ہیں جو اسلام میں پائے جاتے ہیں اور اُن میں سے ایک ایک امر مکمل تعلیم اور کامل معلموں کو چاہتا ہے جو رات دن اسی کام میں لگے رہیں۔جب تک اس تفصیلی آئین کو سکھانے والے لوگ اسلام میں موجود نہیں ہوں گے لوگ سیکھیں گے کیا؟ اور کس سے؟ اور اسلام پر مسلمان عمل کس طرح کریں گے اور اسلام دنیا میں پھیلے گا کس طرح؟ تفسیر کا علم خود ایک مکمل علم ہے۔جب تک مفتر نہ ہو یہ علم زندہ نہیں رہ سکتا اور مفتر بننے کے لئے سالہا سال تک تفاسیر کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے، لغت کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے، صرف ونحو کا مطالعہ کرنے کی ضرروت ہے، احادیث کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے، پھر پرانی تفاسیر کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے، دوسرے مذاہب کی کتب اور ان کی تاریخ خصوصاً تاریخ عرب اور تاریخ بنی اسرائیل اور بائیبل کے مطالعہ کی ضرورت ہے بغیر ان باتوں کے جانے کے کوئی شخص قرآن کریم کے مطالب کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکتا سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ براہ راست کسی کو سمجھائے مگر ایسے آدمی دنیا میں کتنے ہوتے ہیں۔صدیوں میں کوئی ایک آدھ ایسا پیدا ہوتا ہے باقی تو کسب سے جو تقویٰ کے ساتھ ہو یہ مرتبہ حاصل کر سکتے ہیں۔لیکن کمیونسٹ تو اس کام کو کام ہی نہیں سمجھتے وہ کسی کو قرآن کریم اور تفسیر اور عربی بارہ سال تک پڑھنے اور پھر دوسروں کو پڑھانے کا موقع کب دے سکتے ہیں۔وہ تو ایسے شخص کو یا قید کر دیں گے یا اس کا کھانا پینا بند کر دیں گے کہ وہ نکما 89