اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 91

پھیلا رہا ہے وہ بھی کام کر رہا ہے اور جو مذہب کی تعلیم دے رہا ہے وہ بھی کام کر رہا ہے اور جو مذہب کی تعلیم حاصل کر رہا ہے وہ بھی کام کر رہا ہے۔مگر اُن کے نزدیک جو شخص مشین چلاتا ہے۔وہ تو کام کرنے والا ہے مگر جو شخص مذہب پڑھتا یا پڑھا تا یا پھیلا تا ہے وہ نکا اور بے کار ہے۔اُن کے نزدیک لوگوں کو الف اور با سکھا نا کام ہے مگر لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّد رَّسُولُ الله اگر لوگوں کو سکھایا جائے تو یہ کام نہیں بلکہ نکما پن ہے۔پس گو لفظاً ہم اُن سے متفق ہیں اور ہم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ کام کرنے والا ہی روٹی کا مستحق ہونا چاہئے مگر اس امر میں ہم ہرگز اُن سے متفق نہیں ہیں کہ جب تک ایک کمیونسٹ کسی کام کی تصدیق نہ کرے وہ کام ہی نہیں ہے۔کمیونسٹ کے نزدیک اُخروی زندگی کے لئے کام کام نہیں بلکہ وقت کا ضیاع ہے۔اُس کے نزدیک قرآن پڑھانے والا وقت ضائع کر رہا ہے،حدیث پڑھانے والا وقت ضائع کر رہا ہے، فقہ پڑھانے والا وقت ضائع کر رہا ہے،اصول فقہ پڑھانے والا وقت ضائع کر رہا ہے، تفسیر پڑھانے والا وقت ضائع کر رہا ہے ،تصوف پڑھانے والا وقت ضائع کر رہا ہے ، لوگوں کو اخلاق کا درس دینے والا وقت ضائع کر رہا ہے، ایک مسلمان کے نزدیک یہ اُس کی جان سے زیادہ قیمتی اشیاء ہیں اور ان علوم کو زندہ رکھنے اور پھیلانے کے لئے ہزاروں انسانوں کی ضرورت ہے۔صرف روس میں کہ جہاں مسلمان تین کروڑ ہیں کم سے کم پچاس ہزار علماء اور اتنے ہی طلباء چاہئیں جو آئندہ اُن کی جگہ لیں۔مگر کمیونزم نظام کے نزدیک یہ تمام لوگ جو قرآن پڑھانے والے،حدیث پڑھانے والے تفسیر پڑھانے والے ،تصوف پڑھانے والے، فقہ پڑھانے والے، اصول فقہ پڑھانے والے یا اخلاق کا درس دنیا کو دینے والے ہیں خون کو چوس لینے والے قوم کو تباہ کر دینے والے کیڑے ہیں یہ سکھے اور نالائق وجود ہیں۔یہ اپنی قوم پر بار ہیں اور یہ لوگ اس قابل ہیں کہ ان کو جلد سے 91