اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 52

پر اس قدر خرچ اُٹھتا ہے کہ جو سارے ملک پر سال میں ہونے والے خرچ کا ایک چوتھائی ہے۔حالانکہ اس کا کوئی بھی فائدہ نہ ملک کو ہوتا ہے نہ قوم کو ہوتا ہے اور نہ خود سینما دیکھنے والوں کو ہوتا ہے۔قرآن کریم اس قسم کے تمام راستوں کو بند کرتا ہے اور فرماتا ہے مومن وہی ہیں جو اس قسم کے لغو کاموں سے احتراز کریں اور اپنی کمائی کا ایک پیسہ بھی ان پر ضائع نہ کریں۔یورپ کی آزاد حکومتیں جو اپنی اقتصادی ترقی کے لئے ہمیشہ کوشش کرتی رہتی ہیں اُن کی تو یہ حالت ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سینما اور تھیٹر بناتی ہیں۔جتنے سنیما گھر آج انگلستان میں ہیں جنگ کے بعد یقیناً ان میں زیادتی کی جائے گی اور کہا جائے گا کہ یہ سینما کم ہیں سینکڑوں اور سینما گھر بنائے جائیں۔تا کہ وہ لوگ جو سینماؤں کی کمی کی وجہ سے اس تعیش سے محروم ہیں وہ بھی اس میں حصہ لے سکیں اور اُن کی دولت اور اُن کا وقت بھی اس پر صرف ہو۔لیکن اسلام قطعی طور پر ان تمام چیزوں کو جو بنی نوع انسان کے لئے مفید نہیں بند کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔اگر اسلام کے ان احکام پر پوری طرح عمل کیا جائے تو امراء کی ظاہری حالت بھی ایک حد تک مساوات کی طرف لوٹ آئے کیونکہ ناجائز کمائی کا ایک بڑا محرک ناجائز اور بے فائدہ اخراجات ہی ہوتے ہیں۔اسلام میں اسراف کی ممانعت دوسرے اسلام نے اسراف سے منع کیا ہے جس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ گو خرچ کا محل تو جائز ہومگر خرچ ضرورت سے زیادہ ہو۔مثلاً اونچی اونچی عمارات بنانا یا زینت اور تفاخر کے طور پر باغ اور چمن تیار کرانا۔ایک باغ ایسے ہوتے ہیں جو پھلوں کے لئے تیار کئے جاتے ہیں ایسے باغ بنانا اسلام کے رو سے منع نہیں ہیں لیکن بعض باغ اس قسم کے ن بعض باغ اس قم 52