اسلام کا اقتصادی نظام — Page 51
لٹکا لیتے ہیں۔حالانکہ ویسے ہی قالین پچاس ساٹھ روپیہ میں آسانی سے مل جاتے ہیں لیکن محض اس لئے کہ وہ لوگوں کو یہ بتا سکیں کہ یہ قالین فلاں بادشاہ کا ہے یا فلاں زمانہ کا ہے وہ بہت کچھ روپیہ اُس کے خریدنے پر برباد کر دیتے ہیں۔اسلام کے نزدیک یہ سب لغو چیزیں ہیں اور ان میں کوئی حقیقی فائدہ نہیں صرف دولت کے اظہار کے لئے لوگ ان چیزوں کو خریدتے اور اپنے روپیہ کو برباد کرتے ہیں۔رسول کریم صلی یاتم نے ان باتوں کو عملاً ناجائز قرار دے دیا ہے اور فرمایا ہے کہ مومن کا یہ کام نہیں کہ وہ ان لغو کاموں میں اپنے وقت کو ضائع کرے اور اس قسم کی بے کار چیزوں پر اپنے روپیہ کو برباد کرے آجکل کے لحاظ سے سینما اور تھیٹر وغیرہ بھی اس حکم کے نیچے آجائیں گے۔کیونکہ سینما اور تھیروں وغیرہ پر بھی ملک کی دولت کا ایک بہت بڑا حصہ ضائع چلا جاتا ہے۔میں نے ایک دفعہ حساب لگایا تو معلوم ہوا کہ کروڑوں کروڑ روپیہ سینما پر ہر سال خرچ ہوتا ہے۔لاہورہی میں کوئی پچھیں کے قریب سینمائنا جاتا ہے اور اوسط آمد ہر سینما کی ہفتہ وار دو تین ہزار بتائی جاتی ہے اگر اڑھائی ہزار اوسط آمد شمار کی جائے تو ماہوار آمد دس ہزار ہوئی۔اور سالانہ ایک لاکھ نہیں ہزار۔بیس سینما بھی اگر شمار کئے جائیں تو صرف لاہور کا سالا نہ سینما کا خرچ چوبیس لاکھ کا ہوا۔اگر ہندوستان کے تمام شہروں اور قصبات کوسینما کے لحاظ سے لا ہور کے برابر سمجھا جائے گو یقیناً اس سے زیادہ نسبت ہوگی تو بھی ایک ہزار سینما سارے ہندوستان میں بن جاتا ہے اور بارہ کروڑ کے قریب سالانہ خرج سینما کا ہوجاتا ہے اور اگر سینما کے لوازمات کو بھی شامل کیا جاوے کہ ایسے لوگ بالعموم شراب خوری اور ایک دوسرے کی عیاشانہ دعوتوں میں بھی روپیہ خرچ کرتے ہیں تو پچیس تیس کروڑ روپیہ سے زائد خرچ سینما اور اس کے لوازمات پر اُٹھ جاتا ہے اور یہ رقم حکومت ہند کی آمد کا ۱/۴ حصہ ہے۔گو یا صرف سینما 51