اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 53

ہوتے ہیں جن کی غرض محض نمائش یا عیاشی ہوتی ہے۔جیسے پرانے زمانہ میں بعض بادشاہ بڑے بڑے باغ تیار کرایا کرتے تھے جن سے اُن کی غرض محض یہ ہوا کرتی تھی کہ وہاں ناچ گانا ہو اور وہ اس سے لطف اندوز ہوں۔اس طرح محض اپنے نفس کے اہتر از ۲ کے لئے وہ اتنا روپیہ خرچ کر دیتے تھے جو اسراف میں داخل ہو جا تا تھا۔لیکن اس قسم کے باغ بنانے جیسے میونسپل کمیٹیاں تیار کروایا کرتی ہیں اور جن سے اُن کی غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگ وہاں جائیں، سیر کریں اور صحت میں ترقی کریں اسلام کی رو سے منع نہیں ہیں۔اسلام کے نزد یک اگر ایک میونسپل کمیٹی دس لاکھ روپیہ بھی اس قسم کے باغ تیار کرنے پر صرف کر دے جس سے چار پانچ لاکھ آدمی فائدہ اُٹھا سکتے ہوں تو وہ بالکل جائز کام کرے گی۔مثلاً لا ہور کی آبادی 9 لاکھ ہے اگر لاہور کی میونسپل کمیٹی متعدد پارک بنانے پر لاکھوں لاکھ روپیہ خرچ کر دے تو چونکہ نو لاکھ کی آبادی یا اس آبادی کی اکثریت اس سے فائدہ اُٹھائے گی اس لئے روپیہ کا یہ مصرف بالکل جائز سمجھا جائے گا بلکہ اگر ایک لاکھ آدمی بھی اس سے فائدہ اُٹھا ئیں گے تو یہ سمجھا جائے گا کہ میونسپل کمیٹی نے ایک آدمی کی صحت کے لئے چار یا پانچ روپے صرف کئے اور یہ بالکل جائز ہوگا۔لیکن اگر ایک بادشاہ اپنے لئے یا اپنے بیوی بچوں کے لئے لاکھوں روپیہ خرچ کر کے ایک باغ تیار کراتا ہے اور اُس میں دوسروں کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اُس نے ایک ایک نفس پر لاکھ لاکھ یا دودو لاکھ روپیہ خرچ کر دیا حالانکہ اگر وہی ایک لاکھ یا دو لاکھ یا تین لاکھ یا چار لاکھ روپیہ عام لوگوں کے لئے خرچ کیا جاتا تو لاکھوں لوگ اس سے فائدہ اُٹھاتے اور اُن کی صحت پہلے سے بہت زیادہ ترقی کر جاتی۔پس اسلام جائز ضروریات پر روپیہ صرف کرنے سے نہیں روکتا بلکہ اس امر سے روکتا ہے کہ روپیہ کو صیح طور پر استعمال نہ کیا جائے اور بنی نوع انسان 53