اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 34

تھی۔وہ غلام جس مسلمان کے پاس رہتا تھا اُن سے ایک دن اُس نے کہا کہ میری اتنی حیثیت ہے آپ مجھ پر تاوان ڈال دیں میں ماہوار اقساط کے ذریعہ آہستہ آہستہ تمام تاوان ادا کر دونگا۔انہوں نے ایک معمولی سی قسط مقرر کر دی اور وہ ادا کرتا رہا۔ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اُس نے شکایت کی کہ میرے مالک نے مجھ پر بھاری قسط مقرر کر رکھی ہے آپ اُسے کم کرا دیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُس کی آمدن کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جتنی آمد کے اندازہ پر قسط مقرر ہوئی تھی اُس سے کئی گنا زیادہ آمد وہ پیدا کرتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ اس قدر آمد کے مقابلہ میں تمہاری قسط بہت معمولی ہے اسے کم نہیں کیا جاسکتا۔اس فیصلہ سے اُسے سخت غصہ آیا اور اُس نے سمجھا کہ میں چونکہ ایرانی ہوں اس لئے میرے خلاف فیصلہ کیا گیا ہے اور میرے مالک کا عرب ہونے کی وجہ سے لحاظ کیا گیا ہے۔چنانچہ اس غصہ میں اُس نے دوسرے ہی دن خنجر سے آپ پر حملہ کر دیا اور آپ انہی زخموں کے نتیجہ میں شہید ہو گئے۔غرض اسلام نے یہ حق مقرر کیا ہوا تھا کہ اگر کوئی غلام آزاد ہونا چاہے تو وہ قسط وار تاوان کو ادا کرنا شروع کر دے اور اگر سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ کوئی کام شروع کرنے کے قابل نہ ہو تو اس صورت میں اتُوهُم مِّنْ مَّالِ اللَّهِ الَّذِي أَتَاكُمْ کا حکم تھا یعنی مالک خود مددکر کے یا حکومت مسلمہ مدد کر کے اُسے آزادی کا معاہدہ کروادے۔جنگی قیدیوں سے حسنِ سلوک کی تعلیم کام کے بارہ میں یہ ہدایت دی کہ جب تک وہ گھر میں رہے اُس سے وہی کام لوجودہ کر سکتا ہو۔اگر کوئی مشکل کام ہو تو اُس کے ساتھ شامل ہو جاؤ اُسے گالی نہ دو۔اگر وہ مزدوری کرتا ہے تو اُس کی مزدوری اُسے پسینہ خشک ہونے سے پہلے دو۔اگر کام کرنے 34