اسلام کا اقتصادی نظام — Page 35
والا آزاد ہے اور مالک اُسے مار بیٹھتا ہے تو وہ حق رکھتا ہے کہ عدالت میں جائے اور قصاص کا مطالبہ کر کے اسلامی قضاء سے اُسے سزا دلوائے۔یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ تو میرا نوکر تھا اور مجھے اس کو پیٹنے کا حق تھا۔اسلام اس قسم کے حق کو تسلیم نہیں کرتا۔وہ نوکر کو اجازت دیتا ہے کہ اگر اسے پیٹا جائے تو قضاء میں اپنے مالک کے خلاف دعوی دائر کرے اور اُسے سزا دلوائے۔اور اگر وہ آزاد نہیں بلکہ غلام ہے تو اگر وہ اُسے ایک تھپڑ بھی مار بیٹھے تو اسلامی حکومت کو حکم ہے کہ وہ اُسے فوراً آزاد کرا دے اور نگران سے کہے کہ تم اس قابل نہیں ہو کہ کسی قیدی کو اپنے پاس رکھ سکو۔پھر حکم دیا کہ جو کچھ خود کھاؤ وہ اپنے غلاموں کو کھلا ؤ، جو خود پہنو وہی اُن کو پہناؤ۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کے زمانہ میں کئی غلام اپنے گھروں کو واپس جانا پسند ہی نہیں کرتے تھے۔وہ جانتے تھے کہ اگر ہم گھر گئے تو ہمیں دال بھی نصیب نہیں ہوگی مگر یہاں تو ہمیں روزانہ اچھا کھانا کھانے کو ملتا ہے اور پھر مالک کی یہ حالت ہے کہ وہ پہلے ہمیں کھلاتا ہے اور بعد میں آپ کھاتا ہے۔ایسے مزے ہمیں اپنے گھروں میں کہاں میسر آسکتے ہیں۔چنانچہ جب مسلمان بادشاہ بنے اور حکومت اُن کے ہاتھ میں آئی تو وہ غلاموں کو اپنے گھروں سے نکالتے بھی تھے تو وہ نہیں نکلتے تھے۔وہ کہتے تھے فدیہ دو اور آزاد ہو جاؤ مگر وہ فدیہ نہ دیتے۔وہ کہتے تھے اگر فدیہ نہیں دے سکتے تو ہم سے قسطیں مقرر کر لو اور آزاد ہو جاؤ مگر وہ قسطیں بھی مقرر نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر ہم آزاد ہوکر واپس چلے گئے تو پھر وہ مزے ہمیں حاصل نہیں ہوں گے جواب حاصل ہیں۔ایسی صورت میں اگر کچھ لوگ غلام بھی رہے ہوں تو دنیا کو ایسی غلامی پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔غلامی اور اقتصادیات یہ غلامی کا مضمون نہیں لیکن دنیا کی لمبی تاریخ میں غلامی اور ملکوں کے اقتصادی نظام 35