اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 33

خودرو پیہ کما کر قسط اور فدیہ ادا کرتا چلا جاؤں گا آپ مجھے آزاد کر دیں۔اگر وہ قسط اور فدیہ ادا کرنے کا اقرار کرلے تو اسلامی تعلیم کے ماتحت وہ اُسی وقت آزاد ہو جائے گا۔پھر فرمایا ہم تمہیں اس کے ساتھ یہ بھی نصیحت کرتے ہیں کہ اگر تمہیں تو فیق ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال دیا ہوا ہو تو چونکہ مال خدا کا ہے اور غلام بھی خدا کے بندوں میں سے ایک بندہ ہے اس لئے تم اپنے مال میں سے ایک حصہ اُسے بطور سرمایہ دے دو تا کہ وہ اُس پر اپنے کاروبار کی بنیا درکھ کر آسانی سے قسطیں ادا کر سکے۔اب بتاؤ کیا کوئی بھی صورت ایسی رہ جاتی ہے جس میں کسی کو غلام بنایا جا سکتا ہو۔اتنے وسیع احکام اور اتنی غیر معمولی رعایتوں کے بعد بھی اگر کوئی شخص غلامی سے آزاد ہونا پسند نہیں کرتا اور اپنی مرضی سے کسی مسلمان کے پاس رہتا ہے تو سوائے اس کے کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ خود اپنے گھر کے ظلموں سے بیزار ہے اور جانتا ہے کہ اگر میں آزاد ہو کر اپنے گھر گیا تو مجھے زیادہ تکلیف اُٹھانی پڑے گی اس لئے میرے لئے یہی بہتر ہے کہ اس زندگی کو ترجیح دوں۔ورنہ غور کر کے دیکھ لیا جائے کوئی ایک صورت بھی ایسی نہیں رہ جاتی جس میں کسی کو غلام بنایا جا سکتا ہوں۔پہلے تو یہ حکم دیا کہ تم احسان کر کے بغیر کسی تاوان کے ہی اُن کو رہا کر دو۔پھر یہ کہا کہ اگر ایسا نہیں کر سکتے تو تاوان وصول کر کے آزاد کر دو اور اگر کوئی شخص ایسا رہ جائے جو خود تاوان ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اس کی حکومت بھی اُس کے معاملہ میں کوئی دلچسپی نہ لیتی ہو اور اُس کے رشتہ دار بھی لا پرواہ ہوں تو وہ تم کو نوٹس دے کر اپنی تاوان کی قسطیں مقرر کروا سکتا ہے۔ایسی صورت میں جہاں تک اُس کی کمائی کا تعلق ہے قسط چھوڑ کر سب اُسی کی ہوگی اور وہ عملاً پورے طور پر آزاد ہوگا۔حضرت عمر کی شہادت ایک غلام کے ہاتھ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک ایسے غلام نے ہی مارا تھا جس نے مکاتبت کی ہوئی۔۔۔33