اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 19
چیز کو حاصل کر لینا بہت ہی بد اخلاقی اور ذلت ہے۔جو کبھی بھی کوئی مومن برداشت نہیں کرسکتا۔زراعت اور تجارت تب ہی ہو سکتی ہیں جبکہ اس کے پاس کوئی نقدی ہو۔نقدی دو طریق سے حاصل ہوسکتی ہے۔کسی مالدار سے رو پیسو د پر لے لیا جائے۔یا بطور قرضہ حسنہ لے۔اور اپنا کام چلائے۔اور پھر اس سے روپیہ ادا کردے۔سُود اسلام نے سود کوحرام قراردیا ہے۔جو شخص کسی سے سود لیتا ہے یا دیتا ہے خواہ سود کم ہو یا زیادہ وہ لعنتی ہے بلکہ جو گواہ ہوں وہ بھی لعنتی ہیں۔شود ایک ایسا لعنت کا طوق ہے کہ اگر کسی کے گلے میں پڑ جائے تو پھر اس کی اس سے رہائی ناممکن ہے۔دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی کے باپ نے سُود پر روپیہ لیا تو وہ بھی اس کو ادا کرتا مر گیا۔مگر روپیہ ادا نہ ہوسکا۔پھر اس کی اولا داس کو ادا کرتی چلی گئی مگر پھر بھی وہ ادا نہ ہوسکا۔لہذا اللہ تعالی نے مسلمانوں کو شود کی لعنت سے بچانے کے لئے سود کو حرام قرار دیدیا ہے۔اور فرمایا ہے کہ جو مسلمان سود لیتا ہے یا دیتا ہے وہ گو یا اللہ [19]