اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 20
تعالیٰ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتا ہے اور ہر عقلمند یہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے مقابلہ کر کے کوئی شخص کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ سود کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا۔یہ بات غلط ہے اور ایک شیطانی وسوسہ سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔اگر کوئی شخص نیک نیتی سے سود کے بغیر بھی گزارہ کرنا چاہے تو ہوسکتا ہے۔ہاں اگر بعض مجبوریوں کی وجہ سے سود لینا پڑے مثلاً کوئی شخص کسی بینک میں روپیہ جمع کراتا ہے تو سود ضرور ملتا ہے۔تو ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ سود کا روپیہ صرف اشاعت اسلام میں خرچ کرے اور اسے اپنے کسی مصرف میں نہ لائے۔کیونکہ سود کارو پیدا اپنے کسی مصرف میں لانا حرام ہے۔قرض قرض لینا اسلام نے جائز قرار دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ اگر تمہارے پاس روپیہ نہ ہو تو تم قرض لے سکتے ہو اور مالدار لوگوں کو حکم دیا ہے کہ اگر کسی کو روپیہ کی ضرورت ہو تو تم اس کو قرض دو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور احسان کرنا ہر مومن کا فرض ہے۔جو شخص ہمدردی کے طور پر کسی کو قرض دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر خوش ہوتا ہے کہ [20]