اسلام کی کتب (دوسری کتاب) — Page 31
سنت ہے۔عید الفطر میں نماز سے قبل کھا کر جانا عملت ہے۔اور عید الاضحی میں نماز کے بعد آ کر کھانا سنت ہے۔عید کی نماز کو جاتے وقت جس راستہ سے جائے آتے وقت اُس کے سوا کسی دوسرے راستہ سے آنا سنت ہے۔عید الفطر کی نماز سے قبل نے صدقہ فطر ادا کرنا ضروری ہے۔اور نماز عید الاضحی کے بعد جو شخص قربانی کرنے کی طاقت رکھتا ہے اُسے قربانی کرنی چاہئیے۔اگر نماز سے قبل قربانی کر دی جائے تو قربانی نہیں ہوتی۔دونوں عیدوں میں اذان اور اقامت کہنا منع ہے۔دونوں عیدوں میں خطبہ نماز کے بعد ہوتا ہے۔جس میں امام لوگوں کو صدقہ فطر - قربانی اور تکبیرات تشریق کے متعلق تعلیم دیتا ہے۔خطبہ ضرور سننا چاہئے۔دونوں عید میں شہر سے باہر یا کسی کھلی جگہ میں پڑھنی چاہئیں۔بوقت ضرورت ( بارش یا آندھی وغیرہ ہو یا کوئی موزوں جگہ نہ ہو ) مسجد میں بھی پڑھی جاسکتی ہیں۔نماز عید کی دو رکعتیں ہیں۔عید کی نماز سے پہلے یا پیچھے سنت یانفل پڑھنا منع ہیں۔عید کی نماز میں پہلی رکعت میں سات تکبیریں قراءۃ سے پہلے کہی جاتی ہیں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں قراء ۃ سے پہلے کہی جاتی ہیں۔عید کی نماز میں سورۃ ق اور اقتربتِ السَّاعَةُ يا سورۃ اخلی اور غاشِيَة يا مُجمعة اور مُنَافِقُونَ پڑھنا سنت ہے۔اگر شام کو بادل ہو اور چاند دکھائی نہ لے صدقۃ الفطر اور قربانی کے متعلق مسائل ”اسلام کی تیسری کتاب میں درج ہیں۔[31]