اسلام کی کتب (دوسری کتاب) — Page 32
دے۔لیکن لوگوں کو دُوسرے دن زوال کے بعد پتہ لگے کہ کل چاند نکلا ہے (عید الفطر کے موقعہ پر) تو زوال کے بعد عید کی نماز نہیں پڑھی جائے گی۔بلکہ دوسرے دن صبح کو پڑھی جائے گی۔لیکن اگر کوئی ایسا سبب پیدا ہو جائے کہ دوسرے دن بھی نہ پڑھی جاسکے تو پھر عید کی نماز نہیں پڑھی جائے گی۔اگر عید الاضحی میں ایسا موقعہ پیش آ جائے تو ۲ ار تاریخ تک عید کی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔تکبیرات تشریق دو تکبیریں ہیں جو غرفہ (۹) تاریخ کی صبح کی نماز سے لے کر ۱۲ تاریخ کی عصر کی نماز تک ہر نماز کے پیچھے بلند آواز سے کہی جاتی ہیں۔تکبیر تشریق یہ ہے۔اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ نماز کسوف و خسوف یہ نماز چاند یا سورج گرہن کے وقت پڑھی جاتی ہے۔اس نماز کی اذان اور اقامت نہیں ہوتی۔لوگوں کو چاہیئے کہ جس وقت کسوف یا محسوف ہو۔مسجد میں چلے جائیں اور امام اُن کو نماز پڑھائے۔اس نماز کی دو رکعتیں ہیں۔اور ہر ایک رکعت میں دو رکوع ہوتے ہیں۔اور قراءة بالجبر ہوتی ہے۔اور نماز لمبی ہوتی ہے۔جب تک گرہن ڈور نہ ہو اُس وقت تک نماز پڑھنی چاہئیے۔اور خُوب دُعا کرنی چاہئے۔اگر امام نہ ہو تو اکیلے ا چاند گرہن اور سورج گرہن۔[32]