اسلام کی کتب (دوسری کتاب) — Page 33
اکیلے ہی نماز پڑھ لینی چاہئیے۔نماز استخاره جب انسان کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرے تو اُس کو چاہیے کہ وہ استخارہ کی نماز پڑھے۔(استخارہ کرنا سنت ہے ) اور اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرے۔اللہ تعالیٰ اس کے مفید مطلب پر آگاہ کر دے گا۔یہ ضروری نہیں کہ اللہ تعالیٰ اطلاع دے۔گو کبھی خواب یا کشف وغیرہ کے ذریعہ سے خبر مل بھی جاتی ہے۔لیکن اللہ تعالی اُس کے دل کو اُس طرف پھیر دے گا جو اُس کے لئے بہتر ہے۔نماز استخارہ کا یہ طریق ہے کہ انسان عشاء کی نماز کے بعد دو رکعت نماز پڑھے پھر استخارہ کی دُعا پڑھ کر سور ہے۔اللَّهُمَّ اِنّى اَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَاسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ لے لے۔اے اللہ میں بھلائی طلب کرتا ہوں تیرے علم سے اور قدرت چاہتا ہوں تیری قدرت سے اور مانگتا ہوں تیرے بڑے فضل سے بے شک تو قدرت رکھتا ہے اور مجھے کوئی قدرت نہیں۔اور تو جانتا ہے میں نہیں جانتا اور تُو ہی جاننے والا ہے غیبوں کو۔اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام بہتر ہے میرے لئے میرے دین اور میری دُنیا میں اور انجام کے لحاظ سے میرے کام میں تو میرے لئے مقدر کر اس کو اور آسان کر اس کو میرے لئے۔پھر برکت ڈال میرے لئے اس میں اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام بُرا ہے میرے لئے میرے دین اور میری دُنیا میں اور انجام کے لحاظ سے میرے کام میں تو پھیر دے اس کو مجھ سے اور ہٹالے مجھ کو اس سے اور مہیا کر میرے لئے بھلائی جس جگہ ہو پھر راضی کر دے مجھ کو اس پر۔منہ [33]