اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 46 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 46

اعتقاد پر گذر گیا ہے تو بس یہی ایک دلیل اُن کی سچائی کے لئے کافی ہے کیونکہ اگر وہ خدا کی طرف سے نہ ہوتے تو یہ قبولیت کروڑ ہا لوگوں کے دلوں میں نہ پھیلتی خدا اپنے مقبول بندوں کی عزت دوسروں کو ہرگز نہیں دیتا اور اگر کوئی کا ذب اُن کی کرسی پر بیٹھنا چاہے تو جلد تباہ ہوتا اور ہلاک کیا جاتا ہے۔“ الصلح خير (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۵۲-۴۵۳) آپ مزید فرماتے ہیں کہ : ”پیارو ! ! صلح جیسی کوئی بھی چیز نہیں۔آو ہم اس معاہدہ کے ذریعہ سے ایک ہو جائیں۔اور ایک قوم بن جائیں۔آپ دیکھتے ہیں کہ باہمی تکذیب سے کسی قدر پھوٹ پڑ گئی ہے۔اور ملک کو کس قدر نقصان پہنچتا ہے۔آداب یہ بھی آزمالو کہ با ہمی تصدیق کی کس قدر برکات ہیں۔بہترین طریق صلح کا یہی ہے۔ورنہ کسی دوسرے پہلو سے صلح کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسا کہ ایک پھوڑے کو جو شفاف اور چمکتا ہوا نظر آتا ہے اسی حالت میں چھوڑ دیں اور اس کی ظاہری چمک پر خوش ہو جائیں۔حالانکہ اس کے اندرسڑی ہوئی اور بد بودار پیپ موجود ہے۔“ دین کا اصل مقصد (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۵۶) پیغام صلح ہی میں آپ فرماتے ہیں کہ : ”دین یہ ہے کہ خدا کی منہیات سے پر ہیز کرنا اور اس کی رضامندی کی راہوں کی طرف دوڑنا اور اس کی تمام مخلوق سے نیکی اور بھلائی کرنا اور ہمدردی سے پیش آنا اور دنیا کے تمام مقدس نبیوں اور رسولوں کو اپنے اپنے وقت میں خدا کی طرف سے نبی اور مصلح ماننا اور اُن میں تفرقہ نہ ڈالنا۔اور ہر یک نوع انسان سے خدمت کے ساتھ پیش آنا۔ہمارے مذہب کا خلاصہ یہی ہے۔مگر جو لوگ ناحق خدا سے بے خوف ہو کر ہمارے بزرگ نبی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو 46