اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 45
اگر کوئی کہے کہ یہ کیونکر وقوع میں آسکتا ہے کہ صلح ہو جائے۔حالانکہ باہم مذہبی اختلاف صلح کے لئے ایک ایسا امر مانع ہے جو دن بدن دلوں میں پھوٹ ڈالتا جاتا ہے۔میں اس کے جواب میں یہ کہوں گا کہ در حقیقت مذہبی اختلاف صرف اُس اختلاف کا نام ہے جس کی دونوں طرف عقل اور انصاف اور اُمور مشہودہ پر بنا ہو۔ورنہ انسان کو اسی بات کے لئے تو عقل دی گئی ہے کہ وہ ایسا پہلو اختیار کرے جو عقل اور انصاف سے بعید نہ ہو اور امور محسوسہ مشہورہ کے مخالف نہ ہو۔اور چھوٹے چھوٹے اختلاف صلح کے مانع نہیں ہو سکتے۔بلکہ وہی اختلاف صلح کا مانع ہوگا جس میں کسی کے مقبول پیغمبر اور مقبول الہامی کتاب پر تو ہین اور تکذیب کے ساتھ حملہ کیا جائے۔“ (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۴۴) اے عزیز و!! قدیم تجربہ اور بار بار کی آزمائش نے اس امر کو ثابت کر دیا ہے کہ مختلف قوموں کے نبیوں اور رسولوں کو تو ہین سے یاد کرنا اور اُن کو گالیاں دینا ایک ایسی زہر ہے کہ نہ صرف انجام کار جسم کو ہلاک کرتی ہے بلکہ رُوح کو بھی ہلاک کر کے دین اور دنیا دونوں کو تباہ کرتی ہے۔وہ ملک آرام سے زندگی بسر نہیں کر سکتا جس کے باشندے ایک دوسرے کے رہبر دین کی عیب شماری اور ازالہ حیثیت عرفی میں مشغول ہیں۔اور ان قوموں میں ہر گز سچا اتفاق نہیں ہو سکتا جن میں سے ایک قوم یا دونوں ایک دوسرے کے نبی یارشی اور اوتار کو بدی یا بد زبانی کے ساتھ یاد کرتے رہتے ہیں۔اپنے نبی یا پیشوا کی ہتک سن کر کس کو جوش نہیں آتا۔خاص کر مسلمان ایک ایسی قوم ہے کہ وہ اگر چہ اپنے نبی کو خدایا خدا کا بیٹا تو نہیں بناتی مگر آنجناب گوان تمام برگزیدہ انسانوں سے بزرگ تر جانتے ہیں کہ جو ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے پس ایک سچے مسلمان سے صلح کرنا کسی حالت میں بجز اس صورت کے ممکن نہیں کہ اُن کے پاک نبی کی نسبت جب گفتگو ہو تو بجر تعظیم اور پاک الفاظ کے یاد نہ کیا جائے۔اور ہم لوگ دوسری قوموں کے نبیوں کی نسبت ہر گز بدزبانی نہیں کرتے۔بلکہ ہم یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ جس قدر دنیا میں مختلف قوموں کے لئے نبی آئے ہیں اور کروڑہا لوگوں نے ان کو مان لیا ہے اور دنیا کے کسی ایک حصہ میں اُن کی محبت اور عظمت جاگزیں ہوگئی ہے اور ایک زمانہ دراز اس محبت اور 45