اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 47
بُرے الفاظ سے یاد کرتے اور آنجناب پر نا پاک تہمتیں لگاتے اور بدزبانی سے باز نہیں آتے ہیں۔ان سے ہم کیونکر صلح کریں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کر سکتے ہیں۔لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کر سکتے جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے نا پاک حملے کرتے ہیں۔خدا ہمیں اسلام پر موت دے۔ہم ایسا کام کرنا نہیں چاہتے جس میں ایمان جا تا رہے۔۔۔نہایت افسوس سے آہ کھینچ کر مجھے یہ کہنا پڑا ہے کہ اسلام وہ پاک اور صلح کار مذہب تھا جس نے کسی قوم کے پیشوا پر حملہ نہیں کیا۔اور قرآن وہ قابل تعظیم کتاب ہے جس نے قوموں میں صلح کی بنیاد ڈالی اور ہر ایک قوم کے نبی کو مان لیا۔اور تمام دنیا میں یہ فخر خاص قرآن شریف کو حاصل ہے۔جس نے دُنیا کی نسبت ہمیں یہ تعلیم دی کہ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (سورة البقرة آيت ۱۳۷) یعنی تم اے مسلمانو! یہ کہو کہ ہم دنیا کے تمام نبیوں پر ایمان لاتے ہیں۔اور ان میں تفرقہ نہیں ڈالتے کہ بعض کو ما نہیں اور بعض کو رد کر دیں۔اگر ایسی صلح کار کوئی اور الہامی کتاب ہے تو اس کا نام لو۔قرآن شریف نے خدا کی عامہ رحمت کو کسی خاندان کے ساتھ مخصوص نہیں کیا۔اسرائیلی خاندان کے جتنے نبی تھے کیا یعقوب اور کیا الحق اور کیا موسیٰ اور کیا داؤد اور کیا عیسی سب کی نبوت کو مان لیا اور ہر ایک قوم کے نبی خواہ ہند میں گذرے ہیں اور خواہ فارس میں کسی کو مکار اور کذاب نہیں کہا بلکہ صاف طور پر کہہ دیا کہ ہر ایک قوم اور لبستی میں نبی گذرے ہیں اور تمام قوموں کے لئے صلح کی بنیاد ڈالی۔مگر افسوس کہ اس صلح کے نبی کو ہر یک قوم گالی دیتی ہے اور حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے۔اے ہموطن پیارو! میں نے یہ بیان آپ کی خدمت میں اس لئے نہیں کیا کہ میں آپ کو دکھ دوں یا آپ کی دل شکنی کروں بلکہ میں نہایت نیک نیتی سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جن قوموں نے یہ عادت اختیار کر رکھی ہے اور یہ ناجائز طریق اپنے مذہب میں اختیار کر لیا ہے کہ دوسری قوموں کے نبیوں کو بدگوئی اور دشنام دہی کے ساتھ یاد کریں وہ نہ صرف بیجا مداخلت سے جس کے ساتھ ان کے پاس کوئی 47