اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 37
1۔مسلمان اور یہودی آپس میں ہمدردی اور اخلاص کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے خلاف زیادتی یا ظلم سے کام نہ لیں گے۔(اور باوجود اس کے کہ ہمیشہ اس شق کو یہودی توڑتے رہے مگر آپ احسان کا سلوک فرماتے رہے یہاں تک کہ جب انتہا ہو گئی تو یہودیوں کے خلاف مجبوراً سخت اقدام کرنے پڑے۔) 2۔دوسری شرط یہ تھی کہ ہر قوم کو مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔(باوجود مسلمان اکثریت کے تم اپنے مذہب میں آزاد ہو۔) 3 تیسری شرط یہ تھی کہ تمام باشندگان کی جانیں اور اموال محفوظ ہوں گے اور ان کا احترام کیا جائے گا سوائے اس کے کہ کوئی شخص ظلم یا جرم کا مرتکب ہو۔(اس میں بھی اب کوئی تفریق نہیں ہے۔جرم کا مرتکب چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ہو اس کو بہر حال سزاملے گی۔باقی حفاظت کرنا سب کا مشترکہ کام ہے ، حکومت کا کام ہے۔) 4۔پھر یہ کہ ہر قسم کے اختلاف اور تنازعات رسول اللہ علیہ کے سامنے فیصلہ کیلئے پیش ہوں گے اور ہر فیصلہ خدائی حکم کے مطابق کیا جائے گا“۔(اور خدائی حکم کی تعریف یہ ہے کہ ہر قوم کی اپنی شریعت کے مطابق۔فیصلہ بہر حال آنحضرت علیہ کے سامنے پیش ہونا ہے کیونکہ اس وقت حکومت کے مقتدر اعلیٰ آپ تھے۔اس لئے آپ نے فیصلہ فرمانا تھا لیکن فیصلہ اس شریعت کے مطابق ہوگا اور جب یہودیوں کے بعض فیصلے ایسے ہوئے ان کی شریعت کے مطابق تو اس پر ہی اب عیسائی اعتراض کرتے ہیں یا دوسرے مخالفین اعتراض کرتے ہیں کہ جی ظلم ہوا۔حالانکہ ان کے کہنے کے مطابق ان کی شرائط پر ہی ہوئے تھے۔) پھر ایک شرط یہ ہے کہ کوئی فریق بغیر اجازت رسول اللہ (ﷺ) کے جنگ کیلئے نہیں نکلے گا اس لئے حکومت کے اندر رہتے ہوئے اس حکومت کا پابند ہونا ضروری ہے۔اب یہ جو شرط ہے یہ آجکل کی جہادی تنظیموں کیلئے بھی راہنما ہے کہ جس حکومت میں رہ رہے ہیں اس کی اجازت کے بغیر کسی 37