اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 38
قسم کا جہاد نہیں کر سکتے سوائے اس کے کہ اس حکومت کی فوج میں شامل ہو جائیں اور پھر اگر ملک لڑے یا حکومت تو پھر ٹھیک ہے۔) پھر ایک شرط ہے کہ اگر یہودیوں اور مسلمانوں کے خلاف کوئی قوم جنگ کرے گی تو وہ ایک دوسرے کی امداد میں کھڑے ہوں گے۔(یعنی دونوں میں سے کسی فریق کے خلاف اگر جنگ ہوگی تو دوسرے کی امداد کریں گے اور دشمن سے صلح کی صورت میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں کو اگر صلح میں کوئی منفعت مل رہی ہے، کوئی نفع مل رہا ہے، کوئی فائدہ ہورہا ہے تو اس فائدہ کو ہر ایک حصہ رسدی حاصل کرے گا۔) اسی طرح اگر مدینہ پر کوئی حملہ ہو گا تو سب مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔پھر ایک شرط ہے کہ قریش مکہ اور ان کے معاونین کو یہود کی طرف سے کسی قسم کی امداد یا پناہ نہیں دی جائے گی۔( کیونکہ مخالفین مکہ نے ہی مسلمانوں کو وہاں سے نکالا تھا۔مسلمانوں نے یہاں آکر پناہ لی تھی اس لئے اب اس حکومت میں رہنے والے اس دشمن قوم سے کس قسم کا معاہدہ نہیں کر سکتے اور نہ کوئی مددلیں گے۔) ہر قوم اپنے اخراجات خود برداشت کرے گی“۔( یعنی اپنے اپنے خرچ خود کریں گے۔) اس معاہدہ کی رو سے کوئی ظالم یا آئم یا مفسد اس بات سے محفوظ نہیں ہو گا کہ اسے سزادی جاوے یا اس سے انتقام لیا جاوے“۔(یعنی جیسا کہ پہلے بھی آچکا ہے کہ جو کوئی ظالم ہوگا، گناہ کرنے والا ہوگا غلطی کرنے والا ہو گا۔بہر حال اس کو سزا ملے گی ، پکڑ ہوگی۔اور یہ بلا تفریق ہوگی ، چاہے وہ مسلمان ہے یا یہودی ہے یا کوئی اور ہے۔) (ملخص از سیرت خاتم النبیین ،مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحہ ۲۷۹) آزادی مذہب اور اہلِ نجران کے لیے امان نامہ پھر اسی مذہبی رواداری اور آزادی کو قائم رکھنے کیلئے آپ نے نجران کے وفد کو مسجد نبوی میں عبادت کی 38