اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 36 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 36

فرمایا کہ اليْسَتْ نَفْسًا کیا وہ انسان نہیں ہے۔( صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب من قام بجنازة یہودی) پس یہ احترام ہے دوسرے مذہب کا بھی اور انسانیت کا بھی۔یہ اظہار اور یہ نمونے ہیں جن سے مذہبی رواداری کی فضا پیدا ہوتی ہے۔یہ اظہار ہی ہیں جن سے ایک دوسرے کے لئے نرم جذبات پیدا ہوتے ہیں اور یہ جذبات ہی ہیں جن سے پیار، محبت اور امن کی فضا پیدا ہوتی ہے۔نہ کہ آجکل کے دنیا داروں کے عمل کی طرح کہ سوائے نفرتوں کی فضا پیدا کرنے کے اور کچھ نہیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے فتح خیبر کے دوران تو رات کے بعض نسخے مسلمانوں کو ملے۔یہودی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ہماری کتاب مقدس ہمیں واپس کی جائے اور رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ یہود کی مذہبی کتابیں ان کو واپس کر دو۔(السيرة الحلبية، باب ذکر مغازی، غزوہ خیبر۔جلد ۳ صفحه ۴۹) باوجود اس کے کہ یہودیوں کے غلط رویہ کی وجہ سے ان کو سزائیں مل رہی تھیں آپ نے یہ برداشت نہیں فرمایا کہ دشمن سے بھی ایسا سلوک کیا جائے جس سے اس کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے۔آنحضور ﷺ کا یہود مدینہ سے امن کا معاہدہ یہ چند انفرادی واقعات میں نے بیان کئے ہیں اور میں نے ذکر کیا تھا کہ مدینہ میں ایک معاہدہ ہوا تھا۔اُس معاہدہ کے تحت آنحضرت ﷺ نے جو شقیں قائم فرمائی تھیں، جو روایات پہنچی ہیں ان کا میں ذکر کرتا ہوں کہ کس طرح اس ماحول میں جا کر آپ نے رواداری کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور اُس معاشرہ میں امن قائم فرمانے کیلئے آپ کیا چاہتے تھے؟ تاکہ معاشرہ میں بھی امن قائم ہو اور انسانیت کا شرف بھی قائم ہو۔مدینہ پہنچنے کے بعد آپ نے یہودیوں سے جو معاہدہ فرمایا اس کی چند شرائط یہ تھیں کہ: 36