اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 8
فضل نے ایک دنیا کو ان کے تابعدار کر دیا اور صدہا برسوں سے بادشاہوں کی گردنیں ان کے آگے جھکتی چلی آئیں ؟ کیا ہمیں روا ہے کہ ہم خدا کی نسبت یہ بدظنی کریں کہ وہ جھوٹوں کو سچوں کی شان دے کر اور بچوں کی طرح کروڑ ہا لوگوں کا ان کو پیشوا بنا کر اور ان کے مذہب کو ایک لمبی عمر دے کر اور ان کے مذہب کی تائید میں آسمانی نشان ظاہر کر کے دنیا کو دھوکا دینا چاہتا ہے؟ اگر خدا ہی ہمیں دھوکا دے تو پھر ہم راست اور ناراست میں کیونکر فرق کر سکتے ہیں؟“ فرمایا " یہ بڑا ضروری مسئلہ ہے کہ جھوٹے نبی کی شان وشوکت اور قبولیت اور عظمت ایسی پھیلنی نہیں چاہئے جیسا کہ بچے کی۔اور جھوٹوں کے منصوبوں میں وہ رونق پیدا نہیں ہونی چاہئے جیسا کہ نیچے کے کاروبار میں پیدا ہونی چاہئے۔اسی لئے بچے کی اول علامت یہی ہے کہ خدا کی دائمی تائیدوں کا سلسلہ اسکے شامل حال ہو اور خدا اسکے مذہب کے پودہ کو کروڑہا دلوں میں لگا دیوے اور عمر بخشے۔پس جس نبی کے مذہب میں ہم یہ علامتیں پاویں ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی موت اور انصاف کے دن کو یاد کر کے ایسے بزرگ پیشوا کی اہانت نہ کریں بلکہ سچی تعظیم اور سچی محبت کریں۔غرض یہ وہ پہلا اصول ہے جو ہمیں خدا نے سکھلایا ہے جس کے ذریعہ سے ہم ایک بڑے اخلاقی حصہ کے وارث ہو گئے ہیں۔“ (تحفہ قیصریه، روحانی خزائن جلد نمبر ۱۲ صفحه ۲۵۸-۲۶۲) آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ایسی کا نفرنسیں ہونی چاہئیں جہاں مختلف مذاہب کے لوگ اپنے مذہب کے بارہ (ماخوذ از تحفہ قیصریه، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۷۹) میں خوبیاں بھی بیان کریں۔اور اس وقت اگر دیکھا جائے، تو عملی رنگ میں اسلام دنیا کا پہلا مذہب ہے اور تعداد کے لحاظ سے یہ بہر حال دنیا کا دوسرا بڑا مذ ہب ہے۔اس لئے دنیا کے دوسرے مذاہب کو بہر حال مسلمانوں کی عزت کرنی چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت واحترام کا جو حق ہے وہ ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔نہیں تو دنیا میں فساد اور بے امنی پیدا ہوگی۔پس جب ہم دنیا کے مذاہب کا احترام و عزت کرتے ہیں، اُن کے بزرگوں اور انبیاء کوخدا تعالیٰ کا فرستادہ سمجھتے ہیں تو صرف اس خوبصورت تعلیم کی وجہ 8