اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 9

سے جو قرآنِ کریم نے ہمیں دی ہے اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائی۔مخالفین اسلام باوجود اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نازیبا الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں، بیہودہ قسم کی تصویریں بھی بناتے ہیں، مگر ہم کسی مذہب کے نبی اور بزرگ کو جواب میں غلط الفاظ سے نہیں پکارتے یا اُن کا استہزاء نہیں کرتے۔اس کے باوجود مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے کہ یہ امن بر باد کرنے والے ہیں۔پہلے خود یہ لوگ امن بر باد کرنے والی حرکتیں کرتے ہیں ، جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب جذبات بھڑک جائیں تو کہتے ہیں کہ دیکھو مسلمان ہیں ہی تشدد پسند، اس لئے ان کے خلاف ہر طرح کی کارروائی کرو۔۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس پیغام کو جو میں نے پڑھا ہے، اس کی خوب تشہیر کریں تا کہ دنیا کوحقیقی اسلامی تعلیم کا پتہ چل سکے۔دنیا داروں کو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہمارے دل میں اور حقیقی مسلمان کے دل میں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور آپ کا اسوہ حسنہ کس قدر خوبصورت ہے اور اس میں کیا حسن ہے ؟ ایک حقیقی مسلمان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس قدر عشق اور محبت ہے، اس کا یہ لوگ اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت وعشق کا اظہار آج سے چودہ سو سال پہلے صرف حسان بن ثابت نے ہی اپنے اس شعر میں نہیں کیا تھا کہ: كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِي فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو تو میری آنکھ کی پتلی تھا آج تیرے مرنے سے میری آنکھ اندھی ہو گئی۔اب تیرے مرنے کے بعد کوئی مرے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔میں تو تیری موت سے ہی ڈرتا تھا۔یہ شعر آپ کی وفات پر حسان بن ثابت نے کہا تھا لیکن ہم میں اس زمانہ میں بھی حضرت مسیح موعود نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت، ایک گہری عشق و محبت پیدا کی ہے۔ہمارے دل میں اس عشق و محبت کی جوت جگائی ہے۔آپ ایک جگہ اس عشق و محبت کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں۔9