اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 7 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 7

عادت نہیں ہے۔سو جو مذہب دنیا میں پھیل جائے اور جم جائے اور عزت اور عمر پا جائے وہ اپنی اصلیت کے رو سے ہرگز جھوٹا نہیں ہوسکتا۔پس اگر وہ تعلیم قابل اعتراض ہے تو اس کا سبب یا تو یہ ہوگا کہ ( آپ نے اس کی تین وجوہات بتائی ہیں کہ اگر وہ مذہب موجودہ زمانہ میں قابل اعتراض ہوتا ہے تو اس کی تین وجو ہات ہیں۔فرمایا اس کا سبب یہ ہوگا کہ نمبر ایک) '' اس نبی کی ہدایتوں میں تحریف کی گئی ہے۔“ (یعنی نبی نے جو ہدایات دی تھیں، ان کو بدلا گیا۔نمبر دو یہ ) اور یا یہ سبب ہوگا کہ ان ہدایتوں کی تفسیر کرنے میں غلطی ہوئی ہے۔" ( ان کی تفسیر غلط رنگ میں کی گئی۔اور تیسری بات یہ ) ” اور یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود ہم اعتراض کرنے میں حق پر نہ ہوں۔( ایک بات کی سمجھ ہی نہیں آئی اور اعتراض کر دیا۔جس طرح آج کل اُٹھتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر اعتراض کر دیتے ہیں حالانکہ نہ تاریخ پڑھی، نہ واقعات پڑھے، نہ قرآن کی سمجھ آئی۔فرمایا کہ ”چنانچہ دیکھا جاتا ہے کہ بعض پادری صاحبان اپنی کم فہمی کی وجہ سے قرآن شریف کی ان باتوں پر اعتراض کر دیتے ہیں جن کو توریت میں صیح اور خدا کی تعلیم مان چکے ہیں۔سوایسا اعتراض خود اپنی غلطی یا شتاب کاری ہوتی ہے۔“ پھر فرمایا ” خلاصہ یہ کہ دنیا کی بھلائی اور امن اور صلح کاری اور تقویٰ اور خداترسی اسی اصول میں ہے کہ ہم ان نبیوں کو ہرگز کاذب قرار نہ دیں جن کی سچائی کی نسبت کروڑ ہا انسانوں کی صدہا برسوں سے رائے قائم ہو چکی ہو۔اور خدا کی تائیدیں قدیم سے ان کے شامل حال ہوں۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایک حق کا طالب خواہ وہ ایشیائی ہو یا یوروپین ہمارے اس اصول کو پسند کرے گا اور آہ کھینچ کر کہے گا کہ افسوس ہمارا اصول ایسا کیوں نہ ہوا۔“ (ملکہ کو لکھتے ہیں کہ ) میں اس اصول کو اس غرض سے حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ ہند و انگلستان (اس وقت تو ہندوستان پر بھی ملکہ کی حکومت تھی " کی خدمت میں پیش کرتا ہوں کہ امن کو دنیا میں پھیلانے والا صرف یہی ایک اصول ہے جو ہمارا اصول ہے اسلام فخر کر سکتا ہے کہ اس پیارے اور دلکش اصول کو خصوصیت سے اپنے ساتھ رکھتا ہے۔کیا ہمیں روا ہے کہ ہم ایسے بزرگوں کی کسر شان کریں جو خدا کے 7