اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 34 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 34

وغیرہ نے بڑا زور دیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔زید کی اس محبت کو دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ زید آزاد تو پہلے ہی تھا مگر آج سے یہ میرا بیٹا ہے۔اس صورتحال کو دیکھ کر پھر زید کے باپ اور چا وہاں سے اپنے وطن واپس چلے گئے اور پھر زید ہمیشہ وہیں رہے۔(ملخص از دیباچہ تفسیر القرآن مصفقه حضرت مرزا بشیرالدین محموداحمدخلیفہ اسی الثانی صحی۱۱۳) تو نبوت کے بعد تو آپ کے ان آزادی کے معیاروں کو چار چاند لگ گئے تھے۔اب تو آپ کی نیک فطرت کے ساتھ آپ پر اترنے والی شریعت کا بھی حکم تھا کہ غلاموں کو ان کے حقوق دو۔اگر نہیں دے سکتے تو آزاد کر دو۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک صحابی اپنے غلام کو مار رہے تھے تو آنحضرت ﷺ نے دیکھا اور بڑے غصے کا اظہار فرمایا۔اس پر ان صحابی نے اس غلام کو آزاد کر دیا۔کہا کہ میں ان کو آزاد کرتا ہوں۔تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم نہ آزاد کرتے تو اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے آتے۔( صحیح مسلم ، کتاب الایمان۔باب صحبة المالک۔۔۔۔حدیث نمبر ۴۳۰۸) تو اب دیکھیں یہ ہے آزادی۔پھر دوسرے مذہب کے لوگوں کیلئے اپنی اظہار رائے کا حق اور آزادی کی بھی ایک مثال دیکھیں۔اپنی حکومت میں جبکہ آپ کی حکومت مدینے میں قائم ہو چکی تھی اس وقت اس آزادی کا نمونہ ملتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کرنے لگے۔ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی۔مسلمان نے کہا اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو تمام جہانوں پر منتخب کر کے فضیلت عطا کی۔اس پر یہودی نے کہا اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے اور چن لیا۔اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھایا اور یہودی کو تھپڑ مار دیا۔یہودی شکایت لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس حاضر ہوا جس پر آنحضرت ﷺ نے مسلمان سے تفصیل پوچھی اور پھر فرمایا: لَا تُخَيرُونى عَلی مُؤمنی کہ مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دو۔( بخاری کتاب الخصومات باب مایز کرفی اشخاص والخصومت بین المسلم والیھود) 34