اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 33 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 33

بعد اپنا مال اور غلام آپ کو دے دیئے تو آپ نے حضرت خدیجہ کو فرمایا کہ اگر یہ سب چیزیں مجھے دے رہی ہو تو پھر یہ میرے تصرف میں ہوں گے اور جو میں چاہوں گا کروں گا۔انہوں نے عرض کی اسی لئے میں دے رہی ہوں۔آپ نے فرمایا کہ میں غلاموں کو بھی آزاد کر دوں گا۔انہوں نے عرض کی آپ جو چاہیں کریں میں نے آپ کو دے دیا، میرا اب کوئی تصرف نہیں ہے، یہ مال آپ کا ہے۔چنانچہ آپ نے اسی وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے غلاموں کو بلایا اور فرمایا کہ تم سب لوگ آج سے آزاد ہو اور مال کا اکثر حصہ بھی غرباء میں تقسیم کر دیا۔جو غلام آپ نے آزاد کئے ان میں ایک غلام زید نامی بھی تھے وہ دوسرے غلاموں سے لگتا ہے زیادہ ہوشیار تھے ، ذہین تھے۔انہوں نے اس بات کو سمجھ لیا کہ یہ جو مجھے آزادی ملی ہے یہ آزادی تو اب مل گئی ، غلامی کی جو مہر لگی ہوئی ہے وہ اب ختم ہو گئی لیکن میری بہتری اسی میں ہے کہ میں آپ یہ کی غلامی میں ہی ہمیشہ رہوں۔انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ نے مجھے آزاد کر دیا ہے لیکن میں آزاد نہیں ہوتا ہمیں تو آپ کے ساتھ ہی غلام بن کے رہوں گا۔چنانچہ آپ آنحضور ﷺ کے پاس ہی رہے اور یہ دونوں طرف سے محبت کا، پیار کا تعلق بڑھتا چلا گیا۔زید ایک مالدار خاندان کے آدمی تھے ، اچھے کھاتے پیتے گھر کے آدمی تھے ، ڈاکوؤں نے ان کو اغوا کر لیا تھا اور پھر ان کو بیچتے رہے اور بکتے بکاتے وہ یہاں تک پہنچے تھے تو ان کے جو والدین تھے رشتہ دار عزیز بھی تلاش میں تھے۔آخر ان کو پتہ لگا کہ یہ لڑ کا مکہ میں ہے تو مکہ آگئے اور پھر جب پتہ لگا کہ آنحضرت ہوے کے پاس ہیں تو آپ کی مجلس میں پہنچے اور وہاں جا کے عرض کی کہ آپ جتنا مال چاہیں ہم سے لے لیں اور ہمارے بیٹے کو آزاد کر دیں، اس کی ماں کا رورو کے برا حال ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ میں تو اس کو پہلے ہی آزاد کر چکا ہوں۔یہ آزاد ہے۔جانا چاہتا ہے تو چلا جائے اور کسی پیسے کی مجھے ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا بیٹے چلو۔بیٹے نے جواب دیا کہ آپ سے مل لیا ہوں اتنا ہی کافی ہے۔کبھی موقع ملا تو ماں سے بھی ملاقات ہو جائے گی۔لیکن اب میں آپ کے ساتھ نہیں جا سکتا۔میں تو اب آنحضرت ﷺ کا غلام ہو چکا ہوں آپ سے جدا ہونے کا مجھے سوال نہیں۔ماں باپ سے زیادہ محبت اب مجھے آپ مے سے ہے۔زید کے باپ اور چچا 33