اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 35
تو یہ تھا آپ کا معیار آزادی، آزادی مذہب اور ضمیر ، کہ اپنی حکومت ہے ، مدینہ ہجرت کے بعد آپ نے مدینہ کے قبائل اور یہودیوں سے امن و امان کی فضا قائم رکھنے کیلئے ایک معاہدہ کیا تھا جس کی رو سے مسلمانوں کی اکثریت ہونے کی وجہ سے یا مسلمانوں کے ساتھ جو لوگ مل گئے تھے، وہ مسلمان نہیں بھی ہوئے تھے ان کی وجہ سے حکومت آپ ﷺ کے ہاتھ میں تھی۔لیکن اس حکومت کا یہ مطلب نہیں تھا کہ دوسری رعایا ، رعایا کے دوسرے لوگوں کے ، ان کے جذبات کا خیال نہ رکھا جائے۔قرآن کریم کی اس گواہی کے باوجود کہ آپ تمام رسولوں سے افضل ہیں، آپ نے یہ گوارا نہ کیا کہ انبیاء کے مقابلہ کی وجہ سے فضا کو مکدر کیا جائے۔آپ نے اس یہودی کی بات سن کر مسلمان کی ہی سرزنش کی کہ تم لوگ اپنی لڑائیوں میں انبیاء کو نہ لایا کرو۔ٹھیک ہے تمہارے نزدیک میں تمام رسولوں سے افضل ہوں۔اللہ تعالیٰ بھی اس کی گواہی دے رہا ہے لیکن ہماری حکومت میں ایک شخص کی دل آزاری اس لئے نہیں ہونی چاہئے کہ اس کے نبی کو کسی نے کچھ کہا ہے۔اس کی میں اجازت نہیں دے سکتا۔میرا احترام کرنے کیلئے تمہیں دوسرے انبیاء کا بھی احترام کرنا ہوگا۔تو یہ تھے آپ کے انصاف اور آزادی اظہار کے معیار جو اپنوں غیروں سب کا خیال رکھنے کیلئے آپ نے قائم فرمائے تھے۔بلکہ بعض اوقات غیروں کے جذبات کا زیادہ خیال رکھا جاتا تھا۔انسانی اقدار کو قائم کرنے اور مذہبی رواداری کے لئے آنحضرت ﷺ کا بے مثال عملی نمونہ آپ کے انسانی اقدار قائم کرنے اور آپ کی رواداری کی ایک اور مثال ہے۔روایت میں آتا ہے عبدالرحمن بن ابی لیلہ بیان کرتے ہیں کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد قادسیہ کے مقام پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے۔جب ان کو بتایا گیا کہ یہ ذمیوں میں سے ہے تو دونوں نے کہا کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ احتراماً کھڑے ہو گئے۔آپ کو بتایا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے۔اس پر رسول کریم تو نے 35