اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 32
جاؤ۔تین دن تک ان کے ساتھ حسن سلوک ہوتا رہا اور پھر حسن سلوک کے بھی اعلیٰ معیار قائم ہوئے۔آزاد کر دیا اور پھر دیکھیں ثمامہ بھی بصیرت رکھتے تھے اس آزادی کو حاصل کرتے ہی انہوں نے اپنے آپ کو آپ ﷺ کی غلامی میں جکڑے جانے کیلئے پیش کر دیا کہ اسی غلامی میں میری دین و دنیا کی بھلائی ہے۔پھر ایک یہودی غلام کو مجبور نہیں کیا کہ تم غلام ہو میرے قابو میں ہو اس لئے جو میں کہتا ہوں کرو، یہاں تک کہ اس کی ایسی بیماری کی حالت ہوئی جب دیکھا کہ اس کی حالت خطرہ میں ہے تو اس کے انجام بخیر کی فکر ہوئی۔یہ فکر تھی کہ وہ اس حالت میں دنیا سے نہ جائے جبکہ خدا کی آخری شریعت کی تصدیق نہ کر رہا ہو بلکہ ایسی حالت میں جائے جب تصدیق کر رہا ہو۔تا کہ اللہ تعالیٰ کی بخشش کے سامان ہوں۔تب عیادت کے لئے گئے اور اسے بڑے پیار سے کہا کہ اسلام قبول کر لے۔چنانچہ حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ کا ایک خادم یہودی لڑکا تھا جو بیمار ہو گیا۔رسول کریم ﷺہے اس کی عیادت کیلئے تشریف لے گئے اسکے سرہانے تشریف فرما ہوئے اور فرمایا تو اسلام قبول کر لے۔ایک اور روایت میں ہے اس نے اپنے بڑوں کی طرف دیکھا لیکن بہر حال اس نے اجازت ملنے پر یا خود ہی خیال آنے پر اسلام قبول کر لیا۔( صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب : اذا اسلم الصتمی فمات۔۔۔حدیث نمبر ۱۳۵۶) تو یہ جو اسلام اس نے قبول کیا یہ یقیناً اس پیار کے سلوک اور آزادی کا اثر تھا جو اس لڑکے پر آپ کی غلامی کی وجہ سے تھا کہ یقینا یہ سچاند ہب ہے اس لئے اس کو قبول کرنے میں بچت ہے۔کیونکہ ہو نہیں سکتا کہ یہ سراپا شفقت و رحمت میری برائی کا سوچے۔آپ یقینا برحق ہیں اور ہمیشہ دوسرے کو بہترین بات ہی کی طرف بلاتے ہیں، بہترین کام کی طرف ہی بلاتے ہیں، اسی کی تلقین کرتے ہیں۔پس یہ آزادی ہے جو آپ نے قائم کی۔دنیا میں کبھی اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔آپ یہ دعویٰ نبوت سے پہلے بھی آزادی ضمیر اور آزادی مذہب اور زندگی کی آزادی پسند فرماتے تھے اور غلامی کو نا پسند فرماتے تھے۔چنانچہ جب حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے شادی کے 32