اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 31 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 31

کھجوروں کے باغ میں گیا اور غسل کیا اور مسجد میں داخل ہو کر کلمہ شہادت پڑھا۔اور کہا اے محمد ﷺہ بخدا مجھے دنیا میں سب سے زیادہ نا پسند آپ کا چہرہ ہوا کرتا تھا اور اب یہ حالت ہے کہ مجھے سب سے زیادہ وب آپ کا چہرہ ہے۔بخدا مجھے دنیا میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ آپ کا دین ہوا کرتا تھا۔لیکن اب یہ حالت ہے کہ میرا محبوب ترین دین آپ کا لایا ہوا دین ہے۔بخدا میں سب سے زیادہ ناپسند آپ کے شہر کو کرتا تھا۔اب یہی شہر میرا محبوب ترین شہر ہے۔آپ کے گھوڑ سواروں نے مجھے پکڑ لیا جبکہ میں عمرہ کرنا چاہتا تھا۔آپ ا کہ اس کے بارہ میں کیا ارشاد فرماتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ جا تو میں عمرہ کرنے کے لئے رہا تھا اب آپ کا کیا ارشاد ہے۔تو رسول اللہ نے اُسے خوشخبری دی ، مبارکباد دی اسلام قبول کرنے کی اور اسے حکم دیا کہ عمرہ کرو، اللہ قبول فرمائے گا۔جب وہ مکہ پہنچا تو کسی نے کہا کہ کیا تو صابی ہو گیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ میں محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آیا ہوں اور خدا کی قسم اب آئندہ سے یمامہ کی طرف سے گندم کا ایک الله دانہ بھی تمہارے پاس نہیں آئے گا یہاں تک کہ نبی ﷺہ اسکی اجازت مرحمت فرماویں۔( بخاری کتاب المغازی باب و فدینی حنیفہ - وحدیث شمامہ بن اثال ) ایک دوسری روایت میں ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ عمرہ کرنے گئے تو کفار مکہ نے ان کے اسلام کا معلوم ہونے پر انہیں مارنے کی کوشش کی یا مارا۔اس پر انہوں نے کہا کہ کوئی دانہ نہیں آئے گا۔اور یہ اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک نبی کریم ﷺ کی طرف سے اجازت نہ آ جائے۔چنانچہ اس نے جا کے اپنی قوم کو کہا اور وہاں سے غلہ آنا بند ہو گیا۔کافی بری حالت ہوگئی۔پھر ابوسفیان آنحضرت ﷺ کی خدمت میں درخواست لے کر پہنچے کہ اس طرح بھوکے مررہے ہیں اپنی قوم پر کچھ رحم کریں۔تو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ غلہ اس وقت ملے گا جب تم مسلمان ہوجاؤ بلکہ فوراً ثمامہ کو پیغام بھجوایا کہ یہ پابندی ختم کرو، یہ ظلم ہے۔بچوں، بڑوں ، مریضوں ، بوڑھوں کو خوراک کی ضرورت ہوتی ہے ان کو مہیا ہونی چاہئے۔(السيرة النبوية لابن ہشام، سرحمامة ابن اثال ابھی واسلام، خروجه الى ملكة وقصته مع قریش) تو دوسرے یہ دیکھیں کہ قیدی شمامہ سے یہ نہیں کہا کہ اب تم ہمارے قابو میں ہو تو مسلمان ہو 31