مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 47
انسانوں میں شہرت پا گئے ۱؎ مثلاً دیکھو کہ لیکھرام کی پیشگوئی کو کیونکر فریقین نے اپنے اشتہارات میں شائع کیا اور قبل اس کے جو وہ پیشگوئی ظہور میں آوے لاکھوں انسانوں میں اس پیشگوئی کا مضمون شہرت پا گیا اور تین قومیں ہندو ،مسلمان ،عیسائی اس پر گواہ ہو گئیں۔پھر اسی کرو فر سے وہ پیشگوئی ظہور میں بھی آئی اور اُسی طرح لیکھرام قتل کے ذریعہ سے فوت ہوا۔جیسا کہ پیش از قت ظاہر کیا گیاتھا۔کیا ایسی ہیبت ناک پیشگوئی کو پورا کرنا انسان کے اختیار میں ہے؟ کیا اس ملک کی تین قوموں میں اس قدر شہرت پا کر اورایک کشتی کی طرح لاکھوں انسانوں کے نظارہ کے نیچے آ کر اس کاپورا ہو جانا ایسی پیشگوئی کی جو اس شان و شوکت کے ساتھ پوری ہوئی ہو تیرہ سو برس کے زمانہ میں کوئی نظیر بھی ہے؟ بعض کا یہ کہنا کہ بعض پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں اس کا جواب بجز اس کے ہم کیا دیں کہ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْـکَاذِبِیْنَ۔ا گر ان لوگوں کے دلوں میں ایک ذرہ نور انصاف ہوتا تو وہ شُبہ کے وقت میرے پاس آتے تو مَیں اُن کو بتلاتا کہ کس خوبی سے تمام پیشگوئیاں پوری ہو گئیں۔ہاں ایک پیشگوئی ہے جس کا ایک حصّہ پورا ہو گیا اور ایک حصّہ شرط کے اثر کی وجہ سے باقی ہے جو اپنے وقت پر پورا ہو گا۔افسوس تو یہ ہے کہ ان لوگوں کو خدا تعالیٰ کی وہ سنتیں اور قانون بھی معلوم نہیں جو پیش گوئیوں کے متعلق ہیں۔اُن کے قول کے مطابق تو یونس نبی بھی جھوٹا تھا جس نے اپنی پیشگوئی کے قطعی طورپر چالیس دن مقرر کئے تھے مگر وہ لوگ چالیس برس سے بھی زیادہ زندہ رہے۔اور چالیس دن میں نینوا کا ایک تنکا بھی نہ ٹوٹا بلکہ یونس نبی تو کیا تمام نبیوں کی پیشگوئیوں میں یہ نظیریں ملتی ہیں۔پھر اخیر پر خدا تعالیٰ ٰ کی قسم آپ کو دیتا ہوں کہ آپ وہ تمام مخالفانہ پیشگوئیاں جو میری نسبت آپ کے دل میں ہو لکھ کر چھاپ دیں۔اب دس دن سے زیادہ مَیں آپ کو مہلت نہیں دیتا۔جُون مہینے کی ۳۰ ؍تاریخ تک آپ کا اشتہار مخالفانہ پیشگوئیوں کا میرے ۱؎ ایسے نشان جو مجھ سے ظہور میں آئے جن کے کروڑ ہا انسان گواہ ہیں ان میں سے ایک سو نشان کتاب تریاق القلوب میں مع گواہوں کے ذکر کے درج ہیں۔منہ