مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 46
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کہا اور فرمایا کہ خوش قسمت ہے وہ امت جو دوپنا ہوں کے اندر ہے ایک مَیں جو خاتم الانبیاء ہوں اور ایک مسیح موعود جو ولایت کے تمام کمالات کو ختم کرتاہے اور فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جو نجات پائیں گے۔اب فرمایئے کہ جو شخص مسیح موعود سے کنارہ کر کے عبداللہ غزنوی کی وجہ سے اس سے ناراض ہوتا ہے اس کا کیا حال ہے۔کیا سچ نہیں ہے کہ تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ یہی ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی امت کے صلحاء اور اولیاء اور ابدال اورقطبوں اور غوثوں میں سے کوئی بھی مسیح موعود کی شان اور مرتبہ کو نہیں پہنچتا۔پھر اگر یہ سچ ہے تو آپ کا مسیح موعود ؑکے مقابل پر مولوی عبد اللہ غزنوی کا ذکر کرنا اور بار بار یہ شکایت کرنا کہ عبد اللہ کے حق میں یہ کہا ہے کس قدر خدا تعالیٰ کے احکام اور اس کے رسول کریمؐ کی وصیّتوں سے لا پروائی ہے۔کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نصیحت فرمائی تھی کہ عبد اللہ غزنی سے نکالا جائے گا اورپنجاب میں آئے گا اس کو تم مان لینا اور میرا سلام اس کو پہنچانا؟ یا یہ نصیحت فرمائی تھی کہ غلبہئِ صلیب کے وقت مسیح موعود ظاہر ہو گا اور وہ نبیوں کی شان لے کر آئے گا اور خدا اس کے ہاتھ پر صلیبی مذہب کو شکست دے گا اس کی نافرمانی نہ کرنا اور اس کو میری طرف سے سلام پہنچانا؟ اور اگر یہ کہو کہ وہ تو آ کرنصاریٰ سے لڑے گا اور ان کی صلیبوں کو توڑے گا اور ان کے خنزیروں کو قتل کرے گا تو مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ علماء اسلام کی غلطیاں ہیں بلکہ ضرور تھا کہ مسیح موعود نرمی اور صلح کاری کے ساتھ آتا۔اور صحیح بخاری میں بھی لکھا ہے کہ مسیح موعود جنگ نہیں کرے گا اور نہ تلوار اٹھائے گا بلکہ اس کا حربہ آسمانی حربہ ہو گا اور اس کی تلوار دلائل قاطعہ ہو گی۔سو وہ اپنے وقت پر آ چکا۔اب کسی فرضی مہدی اور فرضی مسیح موعود کی انتظار کرنا اور خونریزی کے زمانہ کا منتظر رہنا سراسر کوتہ فہمی کا نتیجہ ہے جو خدا نے میرے ہاتھ پر بہت سے نشان دکھلائے اور ایسے یقینی طورپر ظاہر ہو ئے کہ تیرہ سو برس کے زمانہ میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد ان کی نظیر نہیں پائی جاتی۔اسلامی اولیاء کی کرامات ان کی زندگی سے بہت پیچھے لکھی گئی ہیں۔اور اُن کی شہرت صرف اُن کے چند مُریدوں تک محدود تھی۔لیکن یہ نشان کر وڑ ہا