مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 385
خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم زخمی ہوئے اور ایک تہلکہ برپا ہوا۔اس وقت بعض ان لوگوں کے دلوں میں جو عادت اللہ سے ناواقف تھے یہ خیال بھی آیا کہ جس حالت میں ہم حق پر ہیں اور ہمارے مخالف باطل پر ہیں تو یہ مصیبت ہم پر کیوں آئی۔۱؎ تب ان کا جواب اللہ تعالیٰ نے وہ دیا۔جو قرآن شریف میں مذکور ہے اور وہ یہ ہے۔۲؎ یعنی اگر تم کو اُحد کی لڑائی میں دکھ اور تکلیف پہنچی ہے تو بدر کی لڑائی میں بھی تو تمہارے مخالفوں کو ایسی ہی تکلیف پہنچی تھی ور ایسا ہی دکھ اورنقصان پڑا تھا۔یہاں تک کہ جس کو امیرِ فوج بنا کر لائے تھے یعنی ابوجہل وہ بھی کھیت رہا اور بڑے بڑے کافر مارے گئے پھر اگر اس کے مقابل امیر حمزہ شہید ہوئے اور دوسرے بزرگ صحابہ نے شربت شہادت پیا تو اس قدر بالمقابل صدمہ دیکھنا ضروری تھا کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہی قانون قدرت ہے کہ کبھی کافر فنا کئے جاتے ہیں اور کبھی مومن تکلیف اٹھاتے ہیں۔اس دن سے جو خدا نے دنیا پیدا کی یہ قانون چلا آیا ہے کہ کبھی کوئی ایسی تائید اور نصرت ظاہر ہوتی ہے۔جس سے مومن خوش ہو جاتے ہیں اور کبھی کوئی ایسا ابتلا مومنوں کے لئے پیش آ جاتا ہے جو کافر مارے خوشی کے اچھلتے پھرتے۔پس اللہ تعالیٰ اس اپنی وحی مقدس میں بھی جو آج اس عاجز پر نازل ہوئی فرماتا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ کچھ عرصہ سے متواتر خدا تعالیٰ کی نصرت اور تائید رحمت کے نشانوں کے رنگ میں اس عاجز کی نسبت ظاہر ہو رہی ہے۔جس سے مخالف لوگ ایک مسلسل غم دیکھ رہے ہیں اب ضروری ہے کہ بموجب قانون وَ تِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ ان کو بھی اسی کے ہم رنگ واقعہ عبد اللہ آتھم اور لیکھرام تھا۔عبد اللہ آتھم عین شرطی پیشگوئی کے موافق مرا مگر ناسمجھی سے مخالفوں نے اس بات پر بہت خوشی ظاہر کی کہ وہ میعاد کے اندر نہیں مرا پس یہ معاملہ ایسا تھا جیسا کہ حضرت عیسیٰ ؑکی نسبت ’’شُبِّہَ لَہُمْ‘‘ کا معاملہ تھا۔خدا کو منظور تھا کہ بموجب اپنے قانون قدرت وَ تِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ مخالفوں کو خوشی پہنچائی کیونکہ پہلے نشانوں نے ان کو بہت غمگین کر دیا تھا اور یہ خوشی بھی قائم نہ رہی کیونکہ لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی تھی وہ ایسی صفائی سے پوری ہوئی جو منہ بند ہو گئے۔منہ ۲؎ اٰل عمران : ۱۴۱