مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 386
کچھ خوشی پہنچائی جاوے۔سو اس الہام کی بناء پر کوئی امر ہمارے لئے ناگوار اور ان کے لئے موجب خوشی کا ظاہر ہو جائے گا۔اور جو نشان اس تھوڑے عرصہ میں ہماری تائید میں ظاہر ہوئے جو ہماری خوشی کا موجب اور مخالفوںکے رنج کا موجب تھے وہ بہ تفصیل ذیل ہیں۔اوّل سب سے پہلے مسمیّ کرم دین ساکن بھیں ضلع جہلم کے مقدمات میں دو رحمت کے نشان خدا تعالیٰ کے ظاہر ہوئے پہلے وہ مقدمہ ہے جو کرم دین مذکور نے جہلم کی عدالت میں بصیغہ فوجداری مجھ پر دائر کیا تھا اس میں خدا تعالیٰ نے قبل فیصلہ اس مقدمہ کے مجھے خبر دی کہ کرم دین مذکور ناکام رہے گا اور شکست کھائے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔چنانچہ ابھی مقدمہ زیر تجویز ہی تھا کہ میں نے اپنی کتاب مواہب الرحمان میں اس پیشگوئی کو چھاپ کر شائع کر دیا اور جب میری طلبی جہلم کی عدالت میں ہوئی تو میں کئی نسخے اس کتاب کے ساتھ لے گیا اور قبل فیصلہ مقدمہ لوگوں میں تقسیم کر دیئے اور قادیان میں بھی جہلم کے جانے سے پہلے کئی نسخے اس کتاب کے تقسیم کئے اور ایک نسخہ حسب دستور گورنمنٹ میں بھی بھیج دیا اور آخر پیشگوئی کے مطابق کرم دین کے مقدمہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ عدالت جہلم نے خارج کر دیا۔یہ ۱پہلا نشان ہے جو ظاہر ہوا۔پھر ایک اور مقدمہ کرم دین مذکور نے فوجداری میں میرے پر گورداسپور کی عدالت میں دائر کیا اور اس پر بھی ہماری جماعت میں سے ایک شخص کی طرف سے ایک فوجداری مقدمہ دائر ہو گیا۔اب مقدمات کے فیصلہ سے پہلے خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ انجام کار میں کرم دین کے مقدمہ سے برَی کیا جائوں گا مگر وہ سزا پا جائے گا چنانچہ وہ پیشگوئی میں نے قبل فیصلہ مقدمہ کے اخبار الحکم اور البدر میں شائع کرادی اور ایسا ہی ظہور میں آیا کہ کرم دین سزا پا گیا اور میں انجام کار برَی کیا گیا۔اور یہ دو۲ نشان تھے جو ایک دوسرے کے بعد ظاہر ہوئے۔اور پھر خدا نے مجھے خبر دی کہ ایک زلزلہ کا دھکا ظاہر ہو گا جس سے جانوں اور عمارتوں کو نقصان ہو گا یہ خبر بھی میں نے قبل از وقت الحکم اور بدر کے ذریعہ سے شائع کر دی۔چنانچہ ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء کو وہ زلزلہ آیا جس کی نقصان رسانی کی تفصیل بیان کرنے کی کچھ حاجت نہیں۔یہ چو۴تھا نشان تھا جو ظاہر ہو۔پھر خدا نے مجھے خبر دی کہ موسم بہار میں ایک اور غیر معمولی زلزلہ آئے گا اور ۲۵؍فروری ۱۹۰۶ء کے بعد آئے گا۔چنانچہ ۲۷؍فروری ۱۹۰۶ء کا دن گزرنے کے بعد را