مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 342
کرنے کی یہ ضرورت پیدا ہوئی کہ تا کہ ان نیک دل اور نیک نیت عالی حکّام کو واقعات سے اطلاع ہو جاوے جنہوں نے نہایت ہمدردی اور شفقت سے جو اُن کو میرے خاندان سے ہے مجھے مِنْ وَجْہٍ کہلا بھیجا کہ مَیں مصالحت کر لوں۔نیز ان پر روشن ہو جاوے کہ کون فریق ہم میں سے مصالحت سے کنارہ کش ہے۔مجھ پر الزام خطوط کی جعلسازی کا اور دیگر ناجائز الزامات سراج الاخبار میں لگائے گئے۔جس کے دفعیہ کے لئے مَیں نے کوئی چارہ جوئی عدالت میں نہیں کی۔بلکہ دفعیہ میں اسی بات پر اکتفا کیا کہ کتاب میں لکھ دیا کہ میری آبرو ریزی کرنے والا مجھ پر بہتان باندھتا ہے اور میرا توہین کنندہ کذاب ہے اور اس کے یہ فعل کمینوں کے ہیں۔جس پر مَیں عدالت میں کھینچا گیا۔مَیں نے حکام اور اپنے بزرگان قوم کی ہمدردی کی قدر کر کے یہی پسندپسند کیا کہ ان الزامات جعلسازی وغیرہ کی بریت اگر عدالت سے نہ ہو سکے تو پھر خدا کی عدالت سے کرائوں اور معاملہ کو طے کروں۔البتہ گول مول مصالحت پر مَیں راضی نہیں ہو سکتا۔اس لئے بذریعہ اشتہار ہذا مَیں پھر اپنی رضامندی ظاہر کرتا ہوں کہ اگر فریق ثانی مذکورہ بالا بیان عدالت میں دینے کو تیار ہے تو بالمقابل میں اس قسم کا بیان دینے کو تیار ہوں اور اسی دن ہر دو مقدمات داخل دفتر ہو سکتے ہیں۔مَیں نے اپنے بیان کو ارادتاً سخت سے سخت اپنے لئے تجویز کیا ہے۔یہ اشتہار اس لئے بھی شائع کیا گیا ہے کہ واقعات متعلقہ مصالحت جو ہوئے ہیں ان کے متعلق کوئی غلط بیانی نہ ہو۔المشــــــــــــــــــــــــــــــــــتھر میرزا غلام احمد (رئیس اعظم قادیان) ضلع گورداسپور پنجاب۔۱۴؍ جون ۱۹۰۴ء مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان (یہ اشتہار ۲۶×۲۰ ۸ کے آٹھ صفحات پر ہے) (تبلیغ رسالت جلد۱۰ صفحہ ۶۴ تا ۷۲)