مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 341
’’مَیں کر م دین باقرار صالح بیان کرتا ہوں کہ خطوط جو میرے نام سے میرزا غلام احمد صاحب اور حکیم فضل الدین کو پہنچے ہیں اور مضامین جو ۶؍ اکتوبر ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو میرے نام پر سراج الاخبار میں شایع ہوئے وہ میرے نہیں- اور اگر میرا یہ بیان خلاف واقعہ ہے تو مَیں بغرض انصاف اس معاملہ کو خدا تعالیٰ کی عدالت میں سپرد کرتاہوں-‘‘ اس کے مقابل راقم نے مضمون ذیل منظور کیا- ’’مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مَیں نے جو الفاظ کرم دین کے متعلق کذّاب بہتان ولئیم کے لکھے ہیں، وہ یہ یقین کر کے لکھے ہیں کہ خطوط محولہ امثلہ جات کا لکھنے والا اور اخبار سراج الاخبار مورخہ۶؍ اکتوبر و ۱۳ ؍ اکتوبر کا لکھنے والا مولوی کرمدین ہے اور مَیں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ جھوٹے پر لعنت ڈالے-‘‘ جب یہ مسوّدے حسب اجازت صاحب مجسٹریت مولوی کرم دین کو دکھلائے گئے تو اس نے کہا کہ الفاظ خطوط اور اخبار وغیرہ کا ذکر نہ کیا جائے اور ایسا ہی خدا کی عدالت میں انصاف کے لئے سپردگی بھی نکال دی جاوے اور کوئی تصریح نہ کی جاوے جس کی وجہ وہ یہ بتاتا تھا کہ میرے برخلاف پیشگوئیاں کی جائیں گی- سو اس کے متعلق بھی شرط مان لی گئی تھی تاکہ مصالحت ہو جاوے- لیکن وہ کسی پہلو پر نہ آیا- اور نتیجہ یہ ہوا کہ مصالحت میں قطعی مایوسی ہو کر مقدمہ عدالت میں شروع ہو گیا مجھے اس اشتہار کو جس میں صرف سادے اور سچے واقعات لکھے گئے ہیں اشاعت (بقیہ فٹ نوٹ)۔یہ وہ آیت ہے جو مولوی کرم دین نے پڑھ کر کہا کہ قسم کھانا درست نہیں۔تفسیر مفتی ابومسعود مفتی روم میں زیر آیت لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَيْمَانِكُمْ۠ لکھا ہے کہ عُرضہ اس کو کہتے ہیں کہ جو چیز ایک بات کے کرنے سے عاجز اور مانع ہو جائے اور لکھا ہے کہ یہ آیت ابوبکر صدیق کے حق میں ہے جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ مسطح کو جو صحابی ہے بباعث شراکت اس کی حدیث افک میں کچھ خیرات نہیں دوں گا۔پس خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ایسی قسمیں مت کھاوٴ جو تمہیں نیک کاموں اور اعمال صالحہ سے روک دیں نہ یہ کہ معاملہ متنازعہ جس سے طے ہو۔