مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 263

لوگ ہمارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے اور نہ نفع پہنچا سکتے ہیں۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ ایسے انسان سے قطعاً پرہیز کریں۔اس کی تحریروں سے ہمیں پوری واقفیت نہیں تھی اس لئے اجازت طبع دی تھی۔اب ایسی تحریروں کو چاک کرنا چاہیے۔وَالسَّـلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی المشــــــــــــــــــــــــتھر خاکسار میرزا غلام احمد از قادیاں ۲۳ ؍اپریل ۱۹۰۲ء تعداد اشاعت ۵۰۰۰ مطبع ضیاء الاسلام قادیان (مندرجہ رسالہ دافع البلاء) ------------------------------ حاشیہ نمبر۱ چراغ دین کی نسبت میں یہ مضمون لکھ رہا تھا کہ تھوڑی سی غنودگی ہو کر مجھ کو خدائے عزّوجلّ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔نَزَلَ بِہٖ جَبِیْزٌ یعنی اس پر جَبِیْز نازل ہوا اور اسی کو اس نے الہام یا رئویا سمجھ لیا۔جَبِیْز دراصل خشک اور بے مزہ روٹی کو کہتے ہیں جس میں کوئی حلاوت نہ ہو اور مشکل سے حلق میں سے اتر سکے اور مرد بخیل اور لئیم کو بھی کہتے ہیں جس کی طبیعت میں کمینگی اور فرومایگی اور بخل کا حصہ زیادہ ہو۔اور اس جگہ لفظ جبیزسے مراد وہ حدیث النفس اور اضغاث الاحلام ہیں جن کے ساتھ آسمانی روشنی نہیں اوربخل کے آثار موجود ہیں اور ایسے خیالات خشک مجاہدات کا نتیجہ یا تمنا اور آرزو کے وقت القاء شیطان ہوتا ہے اور یا خشکی اور سوداوی مواد کی وجہ سے کبھی الہامی آرزو کے وقت ایسے خیالات کا دل پر القاء ہو جاتا ہے اور چونکہ ان کے نیچے کوئی روحانیت نہیں ہوتی اس لئے الٰہی اصطلاح میں ایسے خیالات کا نام جبیز ہے اور علاج توبہ اور استغفار اور ایسے خیالات سے اعراض کلّی ہے۔ورنہ جَبِیْز کی کثرت سے دیوانگی کا اندیشہ ہے۔خدا ہر ایک کو اس بلا سے محفوظ رکھے۔منہ