مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 262
لاوے کہ میں مسیح ابن مریم کی طرف سے رسول ہوں تا ان دونوں مذہبوں کا مصالحہ کروں۔لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَافِرِیْنَ۔عیسائیت وہ مذہب ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ قریب ہے کہ اس کی شامت سے زمین پھٹ جائے ، آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔کیا اس سے صلح؟ پھر باوجود ناتمام عقل اور ناتمام فہم اور ناتمام پاکیزگی کے یہ بھی کہنا کہ میں رسول اللہ ہوں یہ کس قدر خدا کے پاک سلسلہ کی ہتک عزت ہے گویا رسالت اور نبوت بازیچۂ اطفال ہے۔نادانی سے یہ نہیں سمجھتا کہ گو پہلے زمانوں میں بعض رسولوں کی تائید میں اور رسول بھی ان کے زمانہ میں ہوئے تھے جیسا کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ہارون لیکن خاتم الانبیاء اور خاتم الاولیاء اس طریق سے مستثنیٰ ہے اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوسرا کوئی مامور اور رسول نہیں تھا۔اور تمام صحابہ ایک ہی ہادی کے پیرو تھے۔اسی طرح اس جگہ بھی ایک ہی ہادی کے سب پیرو ہیں۔کسی کو دعویٰ نہیں پہنچتا کہ وہ نعوذباللہ رسول کہلاوے۔اور ہمارا آنا صرف دو فرشتوں کے ساتھ نہیں بلکہ ہزاروں فرشتوں کے ساتھ ہے اور خدا کے نزدیک وہ لوگ قابل تعریف ہیں جو سالہائے دراز سے میری نصرت میں مشغول ہیں اور میرے نزدیک اور میرے خدا کے نزدیک ان کی نصرت ثابت ہو چکی ہے۔مگر چراغ دین نے کونسی نصرت کی اس کا تو وجود اور عدم برابر ہے۔قریباً تیس سال سے یہ سلسلہ جاری ہے مگر اس نے تو صرف چند ماہ سے پیدائش لی ہے اور میں اس کی شکل بھی اچھی طرح شناخت نہیں کر سکتا کہ وہ کون ہے۔اور نہ وہ ہماری صحبت میں رہا اور میں نہیں جانتا کہ وہ کس بات میں مجھے مدد دینا چاہتا ہے۔کیا عربی نویسی کے نشان میں یا معارف قرآنی کے بیان میں میرا مددگار ہو گا یا ان مباحث دقیقہ میں میری اعانت کرے گا جو طبعی اور فلسفہ کے رنگ میں عیسائیوں اور دوسرے فرقوں سے پیش آتے ہیں؟ میں تو جانتا ہوں کہ وہ ان تمام کوچوں سے محروم ہے اور نفس امارہ کی غلطی نے اس کو خودستائی پر آمادہ کیا ہے۔پس آج کی تاریخ سے وہ ہماری جماعت سے منقطع ہے جب تک کہ مفصل طور پر اپنا توبہ نامہ شائع نہ کرے اور اس ناپاک رسالت کے دعویٰ سے ہمیشہ کے لئے مستعفی نہ ہو جائے۔افسوس! کہ اس نے بے وجہ اپنی تعلّی سے ہمارے سچے انصار کی ہتک کی اور عیسائیوں کے بدبودار مذہب کے مقابل پر اسلام کو ایک برابر درجہ کا مذہب سمجھ لیا۔سو ہم کو ایسے شخص کی کچھ پروا نہیں۔ایسے