مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 264
حاشیہ نمبر۲ رات کو عین خسوف قمر کے وقت میں چراغ دین کی نسبت مجھے یہ الہام ہوا۔اِنِّیْ اُذِیْبُ مَنْ یُّرِیْبُ۔میں فنا کر دوں گا۔میں غارت کروں گا۔میں غضب نازل کروں گا اگر اس نے شک کیا اور اس پر ایمان نہ لایا اور رسالت اور مامور ہونے کے دعوے سے توبہ نہ کی۔اور خدا کے انصار جو سالہائے دراز سے خدمت اورنصرت میں مشغول اور دن رات صحبت میں رہتے ہیں ان سے عفو تقصیر نہ کرائی کیونکہ اس نے جماعت کے تمام مخلصوں کی توہین کی کہ اپنے نفس کو ان سب پر مقدم کر لیا۔حالانکہ خدا نے بار بار براہین احمدیہ میں اُن کی تعریف کی اور اُن کو سابقین قرار دیا اور کہا۔اَصْحَابُ الصُّفَّۃِ وَمَا اَدْرَاکَ مَا اَصْحَابُ الصُّفَّۃِ۔اور جَبِیْز اس روٹی خشک کو کہتے ہیں کہ دانت اس کو توڑ نہ سکیں۔اور وہ دانت کو توڑے اور حلق سے مشکل سے اترے اور امعاء کو پھاڑے اور قولنج پیدا کرے۔پس اس لفظ سے بتلایا کہ چراغ دین کی یہ رسالت اور یہ الہام محض جبیز اور اس کے لئے مہلک ہیں۔مگر دوسرے اصحاب جن کی توہین کرتا ہے اُن پر مائدہ نازل ہو رہا ہے اور اُن کو خدا کی رحمت سے بڑا حصہ ہے۔۱۔مائدہ چیزیست دیگر خشک نان چیزے دگر خوردنی ہرگز نباشد نان خشک اے بے ہنر ۱؎ ۲۔دوستاں را مائدہ بدہند از مہر و کرم پارہ!ہائے خشک نان بیگانگان را نیزہم ۳۔نیز ہم پیشِ سگاں آں خشک نان مے افگنند مائدہ از لطف!ہا پیشِ عزیزاں مے برند ۴۔ترک کن ایں خشک نان را ہوش کن فرزانہ باش گر خردمندی پئے آں مائدہ دیوانہ باش منہ (مندرجہ رسالہ دافع البلاء مطبوعہ ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۹تا۲۴۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۲۳۹ تا ۲۴۴) ۱؎ ترجمہ اشعار۔(۱) خوان نعمت اور چیز ہے خشک روٹی اور چیز ہے۔اے بے سمجھ سوکھی روٹی کھانے کے قابل نہیں ہوتی۔(۲) دوستوں کو فضل و کرم سے عمدہ نعمتیں ملتی ہیں۔لیکن غیروں کو سوکھی روٹی کے ٹکڑے ہی ملتے ہیں۔(۳)اس خشک روٹی کو کتوں کے آگے بھی ڈال دیتے ہیں اور خوان نعمت کو لطف کے ساتھ عزیزوں کے سامنے لے جاتے ہیں۔(۴) تو اس سوکھی روٹی کو چھوڑ ہوش کر عقل کر۔اگر عقل مند ہے تو خوان کا طلب گار بن۔