مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 261
اشارہ ہے کہ عیسائیوں نے شور مچا رکھا تھا کہ مسیح بھی اپنے قرب اور وجاہت کے رو سے واحد لاشریک ہے۔اب خدا بتلاتا ہے کہ دیکھو میں اس کا ثانی پیدا کروں گا جو اس سے بھی بہتر ہے۔جو غلام احمد ہے یعنی احمد کا غلام۔زندگی بخش جام احمد ہے کیا پیارا یہ نام احمد ہے لاکھ ہوں انبیا مگر بخدا سب سے بڑھ کر مقام احمدہے باغ احمد سے ہم نے پھل کھایا میرا بستاں کلامِ احمد ہے اِبن مریم کے ذکر کو چھوڑو اُس سے بہتر غلامِ احمد ہے یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور اگر تجربہ کے رو سے خدا کی تائید مسیح ابن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔خدا نے ایسا کیا نہ میرے لئے بلکہ اپنے نبی مظلوم کے لئے۔باقی ترجمہ اس الہام کا یہ ہے کہ عیسائی لوگ ایذا رسانی کے لئے مکر کریں گے اور خدا بھی مکر کرے گا اور وہ دن آزمائش کے دن ہوں گے اور کہہ کہ خدایا پاک زمین میں مجھے جگہ دے۔یہ ایک روحانی طور کی ہجرت ہے اور جیسا کہ اب تک میں سمجھتا ہوں اس کے معنے یہ ہیں کہ انجام کار زمین میں تبدیلی پیدا ہو جائے گی اور زمین راستی اور سچائی سے چمک اٹھے گی۔اب سوچ لو کہ ہم میں اور عیسائیوں میں کس قدر بُعد المَشرقَین ہے۔جس پاک وجود کو ہم تمام مخلوقات سے بہتر سمجھتے ہیں اس کو یہ مفتری قرار دیتے ہیں۔صلح تو اس حالت میں ہوتی ہے کہ جب فریقین کچھ کچھ چھوڑنا چاہیں۔لیکن جس حالت میں ہمارا دین اور ہماری کتاب عیسائی مذہب کو سراپا ناپاک اور نجس سمجھتا ہے اور واقعی ایسا ہی ہے تو پھر ہم کس بات پر صلح کریں۔اس قدر مذہبی مخالفت کا انجام صلح ہرگز نہیں ہے بلکہ انجام یہ ہے کہ جھوٹا مذہب بالکل فنا ہو جائے گا اور زمین کے کل نیک طینت انسان سچائی کو قبول کریں گے تب اس دنیا کا خاتمہ ہو گا۔ہمارا عیسائیوں سے مذہبی رنگ میں کچھ بھی ملاپ نہیں بلکہ ہمارا جواب ان لوگوں کو یہی ہے ۱؎ پس یہ کیسی ناپاک رسالت ہے جس کا چراغ دین نے دعوٰی کیا ہے۔جائے غیرت ہے کہ ایک شخص میرا مرید کہلا کر یہ ناپاک کلمات منہ پر