مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 184
کے معنے ہیں ہلاک کرنے والا۔یعنی اس میں ہمیشہ سخت وبا پڑا کرتی تھی۔آپ نے داخل ہوتے ہی فرمایا کہ اب اس کے بعد اس شہر کا نام یثرب نہ ہو گا۔بلکہ اس کا نام مدینہ ہو گا یعنی تمدّن اور آبادی کی جگہ۔اور فرمایا کہ مجھے دکھایا گیا ہے کہ مدینہ کی وبا اس میں سے ہمیشہ کے لئے نکال دی گئی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور اب تک مکہ اور مدینہ ہمیشہ طاعون سے پاک رہے میں اُس خدائے کریم کا شکر کرتا ہوں کہ اسی آیت کے مطابق اس نے مجھے بھی الہام کیا اور وہ یہ ہے۔اَ لْاَ مْرَاضُ تُشَاعُ وَالنُّفُوْسُ تُضَاعُ۔اِنَّ اﷲَ لَایُغَیِّرُ مَابِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَابِاَنْفُسِھِمْ اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ۔یہ الہام اشتہار ۲۶؍ فروری ۱۸۹۸ء میں شائع ہو چکا ہے۔اور یہ طاعون کے بارے میں ہے۔اس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ موتوں کے دن آنے والے ہیں مگر نیکی اور توبہ کرنے سے ٹل سکتے ہیں اور خدا نے اس گائوں کو اپنی پناہ میں لے لیا ہے اور متفرق کئے جانے سے محفوظ رکھا۔یعنی بشرط توبہ۔اور براہین احمدیہ میں یہ الہام بھی درج ہے کہ مَاکَانَ اﷲُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَ اَنْتَ فِیْھِمْ یہ خدا کی طرف سے برکتیں ہیں اور لوگوں کی نظر میں عجیب۔اور یاد رہے کہ یہ ہماری تحریر محض نیک نیتی اور سچی ہمدردی کی راہ سے ہے۔وَمَاعَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلَاغُ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی المشــــــــتھر خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۱۷؍ مارچ ۱۹۰۱ء مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان ضلع گورداسپور یہ اشتہار صفحہ۲۶×۴۲۰ کے دو صفحوں پر ہے۔(تبلیغ رسالت جلد۱۰ صفحہ ۹ تا ۱۱)