مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 183
ہے جس کا نام خدا ہے۔یہ بلا اسی کے ارادہ سے ملک میں پھیلی ہے۔کوئی نہیں بیان کر سکتا کہ یہ کب تک رہے گی اور اپنے رخصت کے دنوں تک کیا کچھ انقلاب پیدا کرے گی۔اور کوئی کسی کی زندگی کا ذمہ وار نہیں۔سو اپنے نفسوں اور اپنے بچوں اور اپنی بیویوں پر رحم کرو۔چاہیے کہ تمہارے گھر خدا کی یاد اور توبہ اور استغفار سے بھر جائیں اور تمہارے دل نرم ہو جائیں۔بالخصوص مَیں اپنی جماعت کو نصیحتاً کہتا ہوں کہ یہی وقت توبہ اور استغفار کا ہے۔جب بلا نازل ہو گئی تو پھر توبہ سے بھی فائدہ کم پہنچتا ہے اب اس سخت سیلاب پر سچی توبہ سے بند لگائو۔باہمی ہمدردی اختیار کرو۔ایک دوسرے کو تکبّر اور کینہ سے نہ دیکھو۔خدا کے حقوق ادا کرو اور مخلوق کے بھی تا تم دوسروں کے بھی شفیع ہوجائو۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ایک شہر میں جس میں مثلاً دس لاکھ کی آبادی ہو ایک بھی کامل راستباز ہو گا تب بھی یہ بلا اس سے دفع کی جائے گی۔پس اگر تم دیکھو کہ یہ بلا ایک شہر کو کھاتی جاتی اور تباہ کرتی جاتی ہے تو یقینا سمجھو کہ اس شہر میں ایک بھی کامل راستباز نہیں۔معمولی درجہ کی طاعون یا کسی اور و با کا آنا ایک معمولی بات ہے۔لیکن جب یہ بلا ایک کھاجانے والی آگ کی طرح کسی شہر میں اپنا منہ کھولے تو یقین کرو کہ وہ شہر کامل راست بازوں کے وجود سے خالی ہے۔تب اس شہر سے جلد نکلو یا کامل توبہ اختیار کرو۔ایسے شہر سے نکلنا طبی قواعد کے رو سے مفید ہے۔ایسا ہی رُوحانی قواعد کے رُو سے بھی۔مگر جس میں گناہ کا زہریلہ مادہ ہو وہ بہرحال خطرناک حالت میں ہے۔پاک صحبت میں رہو کہ پاک صحبت اور پاکوں کی دُعا اس زہر کا علاج ہے۔دُنیا ارضی اسباب کی طرف متوجہ ہے مگر جڑ اس مرض کی گناہ کا زہر ہے اور تریاقی وجود کی ہمسائیگی فائدہ بخش ہے۔اﷲ جَلَّ شَانُہٗ اپنے رسُول کو قرآن شریف میں فرماتا ہے۔مَاکَانَ ۱؎ یعنی خدا ایسا نہیں ہے کہ وبا وغیرہ سے ان لوگوں کو ہلاک کر ے جن کے شہر میں تُورہتا ہو۔پس چونکہ وہ نبی علیہ السلام کامل راست باز تھا اس لئے لاکھوں کی جانوں کا وہ شفیع ہو گیا۔یہی وجہ ہے کہ مکہ جب تک آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اس میں تشریف رکھتے رہے امن کی جگہ رہا اور پھر جب مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کا اس وقت نام یثرب تھا جس الانفال ۳۴